سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 149
شاید کوئی یہ خیال کرے کہ اس نے برطانوی لیبر پارٹی کو چھوڑ کر برطانوی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔مضمون جس کا عنوان انسلی اکثریت کا دفاع ہے وہ آیت اللہ خمینی کی قتل کی سزا کے برطانوی جواب کو بزدلانہ اور پست ہمت قرار دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ برطانوی حکومت برطانیہ کے مقامی آیت الا ؤں سے ہمیشہ مصالحت کرتی چلی آئی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ برطانوی روایات، تہذیب اور قوانین میں ترمیم کرنا پڑی تا ایسے لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے جن کا تعلق غیر مہذب ادوار اور مقامات کی اقدار اور اخلاقی قوانین سے ہے۔کتاب ادی سٹینک ورسزا کے جلائے جانے کے موضوع پر کلرائے سلک تحقیرانہ رنگ میں اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے نسلی اقلیتوں کے غیر مہذب رتبہ کی بات کرتا ہے۔خاص طور پر وہ لوگ جن کا تعلق بر صغیر ہند و پاکستان سے ہے۔اس کا نظریہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جود یکھنے میں برطانوی نہیں ضرور غیر تہذیب یافتہ ہے۔وہ کہتا ہے : " جوں ہی کوئی نسلی اقلیت شکایت کرتی ہے وہ لوگ ( برطانیہ کی سیاسی اور ثقافتی نوکر شاہی ) اس بات پر رضامند ہو جاتے ہیں کہ انگلش نہ بولنے والے لوگوں کی پسند کے مطابق قوانین بنالئے جائیں چاہے ان لوگوں کو بنگلہ دیش کے افتادہ مقامات سے آئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہو " کلرائے مغربی تہذیب کے بارہ میں متکبرانہ رنگ میں کہتا ہے کہ اس " تہذیب نے گزشتہ ایک ہزار سال میں برطانیہ میں نشو ونما پائی ہے"۔وہ فخریہ انداز میں کہتا ہے کہ " ایک ایسی تہذیب جو پارلیمانی جمہوریت کو پسند کرتی ہو جس میں آزادی، انصاف ، ایمان داری اور رواداری سب سے نمایاں ہیں اُس تہذیب سے ہزار درجہ بہتر ہے جو کتابوں کے جلانے کو کہتی ہو اور جو ایک انسان کو موت کا سزاوار محض اس لئے قرار دیتی ہو کہ اس کے نظریات غیر قدامت پسندانہ ہیں۔اسلام پر اس کا حملہ اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے جب وہ شریعت کے چند قوانین کے بارہ میں اہانت آمیز فقرے کہتا ہے۔بعینہ اسی طرح جس طرح سلمان رشدی نے اپنے ناولوں میں لکھے ہیں۔" اخلاقی قوانین یا ایسی کوئی بات منطقی نہیں جو یہ کہتی ہو کہ ہمیں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ ایک آدمی کیلئے متعدد بیویاں رکھنا جائز ہے یا جانور مذہبی رسوم کے مطابق ذبح کئے جائیں یا لڑکیوں کے ختنے کئے جائیں یا عورتوں سے جانوروں جیسا سلوک کیا جائے۔اگر ہم نے ایک بار ایسا کرنا شروع کر دیا تو جلد ہی ہم اس مارکیٹ اسکوائر میں پہنچ جائیں گے جہاں مجرموں کو کوڑے 149)