سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 56 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 56

تا کہ وہ اسلام کو نظر استحسان سے دیکھنے سے اعراض کریں۔انہیں یہ تشویش لاحق تھی کہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔دوسرے انہوں نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واسطے مسلمانوں کے اپنے ہی علماء کو استعمال کیا جنہوں نے اپنی سوچ میں آزاد خیالی دکھائی تھی۔اور اس مقصد کے لئے ان کا استحصال کیا تاکہ ان کی اپنی صفوں میں قدامت پسندی میں نرمی پیدا کی جاسکے۔جب یہ منصوبہ بھی نا کام رہا تو ایک نئے اور زیادہ شیطانی منصوبہ کی تیاری کی گئی۔جو گزشتہ تمام منصوبوں کو ملا کر ان سے زیادہ عیار اور فریب میں ڈالنے والا تھا۔انہوں نے اس کی تیاری میں دلجمعی سے وقت صرف کیا تا کہ اس سے حتی المقدور نقصان پہنچایا جا سکے۔مسلمانوں کی آزاد فکر خیالی کی تشکیل نو کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی اور اس نئی آزاد خیالانہ تعبیر کے لئے ضروری تھا کہ وہ ملاؤں اور دوسرے انتہا پسندوں کے وضع کردہ قدامت پسند پروگرام کا معقول متبادل پیش کریں۔پس وہ کون نیا آزاد خیال عالم ہو سکتا تھا جو اسلامی نظریات میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دے تاکہ اس سے اہل مغرب اور عیسائیت فائدہ اٹھا سکیں۔ایسے نظریات جور و بہ منزل تھے اور ابھی بھی ہیں۔ڈاکٹر علی نے اس نئے آزاد خیال عالم کے بارہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اس کے کردار کو یوں بیان کیا ہے : " نئے آزاد خیال شخص کیلئے ضروری تھا کہ وہ بنیادی طور پر عالم اسلام سے مخاطب ہو، اسے سامراجیت کے خلاف کارفرما قوتوں کا محاسبہ کرنا ہو گا، جو آج کی دنیا کا حصہ ہیں"۔(صفحہ 139) نیا آزاد خیال سکالر الله مستشرقین کی تمام سابقہ تصانیف دینی علماء کے فائدہ کیلئے لکھی گئیں تھیں جن کا طرز تحریر پیچیدہ اور تاریخی زاویہ نگاہ تک محدود تھا۔ہادی برحق ﷺ پر جو اہانتیں اور تہمتیں لگائے گئی تھیں ان میں سے اکثر کو احتیاط کیسا تھ چھپالیا گیا تھا تا کوئی وسیع پیمانے پر شور و غوغا نہ کر سکے۔انہوں نے بہ یک وقت اسلام کا مسخ شدہ اور مبہم تصور پیش کیا۔اسلام اور اس کی برگزیدہ ہستیوں کو منفی پہلو اور فاسق و فاجر کے طور پر پیش کرنے کیلئے ضروری تھا کہ ایک افسانہ نگار کے فن کو استعمال میں لایا جائے 56