سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 55
باب ششم فکر اسلامی کی تشکیل نو کے منصوبے کالونیل ہندوستان میں فکر اسلامی کی تشکیل نو کی طرف لوٹتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ اہل مغرب جو پہلے آزما چکے تھے وہ یہ تھا کہ اس دور کے مسلمان آزاد خیال علماء کو اسلام کو مغربیت کی طرف لے جانے والے ذرائع اور وسائل کے اظہار کی کھلی چھٹی دے دی، تا کہ اسے اس طرح تسلیم کر لیا جائے جیسے یہ مسلمانوں کی اہل مغرب کے سامنے عذر خواہی ہو۔مزید یہ کہ جس بات کو اہل مغرب جھٹلا نہیں سکتے وہ یہ ہے کہ فکر اسلامی کی تشکیل نو کے مکار منصو بہ کو ان کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔ڈاکٹر مائیکل نذیر علی نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے:" جب ہم مشرق وسطی سے ہندوستان کی طرف رجوع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں پر مسلم جدت پسندی یورپ کے اثر ورسوخ کے ردعمل کے طور پر شروع نہیں ہوئی تھی۔بلکہ تقریباً اس کی سر پرستی میں ایسا ہوا تھا۔" (Ali, Islam - A Christian Perspective, page 107) ان کی تمام کوششوں اور پشت پناہی جو اسلام کو آزاد خیال بنانے کے منصوبہ کے پیچھے تھی اور جس کی ابتداء پر توقع تھی، کے باوجود یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا۔جس کی بڑی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ آزاد خیالی کو مغرب کے اونچے طبقہ کے لوگوں نے ہی توجہ دی اور علماء میں قبولیت نہ حاصل کر سکی۔ایک اور وجہ جس کا اعتراف ڈاکٹر علی نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ : " اس دور کی مسلم آزاد خیالی کے مخاطب یورپ کی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہی تھے ، عالم اسلام میں اس کی ناکامی کا سبب اسی میں مضمر ہے۔" (صفحہ 139) پس یورپ کا حال کچھ ایسا تھا کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔فکر اسلامی کی تشکیل نو کیلئے ان کا منصوبہ قریب قریب چل پڑا جس کیلئے پہلے انہوں نے اپنے مستشرقین کو استعمال کیا جن کے فریب کار فیشن نے جادو کا استعمال قلم سے کیا وہ ایک طرف تو سرکار دو عالم ﷺ کی مدح ثنائی کرتے اور دوسری طرف انہیں سولی پر چڑھا دیتے۔اس کا ہدف زیادہ تر مغربی دنیا کے عوام تھے 55