سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 57 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 57

جو اپنے ہیجان خیز طرز تحریر سے زیادہ سے زیادہ عوام الناس پر اثر ڈال سکے۔بفرض محال اگر معاملہ بگڑ بھی جائے تو انسان یہ عذر تراش لے کہ یہ تو افسانہ طرازی پر مبنی تصنیف تھی۔پس ایک موزوں امیدوار کی تلاش شروع ہوگئی جو مغرب کے ذلیل منصوبوں کے معیار پر پورا اترتا ہو۔اس معمہ کے آخری ٹکٹرے نے ابھی ابھرنا تھا۔بہتر ہوگا کہ ایسا آزاد خیال شخص بھارت یا پاکستان سے ہو، وہ صرف نام کا مسلمان ہو، وہ مغرب کے اونچے طبقہ کا ممبر ہو اور اگر وہ ممتاز قلم کار ہوتو اور بھی بھلا۔اس کام کیلئے بیج شاید سالہا سال قبل یا شاید صدیوں قبل بودئے گئے تھے اور اب اس کا زہریلا پھل پک کر تیار ہو چکا تھا۔ان کا مقصود شاطر کھلاڑی تھا مگر وہ تاش کے پتوں کا جو کر ثابت ہوا۔بعد میں حقائق نے ثابت کر دیا کہ یہ کوئی مذاق نہیں تھا اور تمام متفکر لوگوں کے لئے یہ کوئی معمولی سا معاملہ نہیں تھا۔بلکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ثابت ہوا۔دنیا بھر کے غیر مسلم بھی اپنی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں ایک نئے لفظ کا اضافہ کر نیوالے تھے۔قطع نظر اس کے کہ وہ کون سی زبان بولتے تھے اور وہ لفظ تھا فتوی۔سلمان رشدی کے لئے سٹیج تیار ہو چکا تھا جو تمام شرائط پر پورا اترتا تھا۔سیبوں کے ڈھیر میں گندے سیب بھی ہوتے ہیں لیکن اہل مغرب نے ڈھیر کے بالکل نیچے جا کر سب سے متعفن سیب رشدی کی شکل میں نکالا۔مزید برآں اس گندے سیب کو باقی ماندہ دنیا کے سامنے رکھ دیا تا وہ یہ کہہ سکیں کہ اسلام میں اس طرح کے اسیب رفتہ رفتہ عمومی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔میں اس موضوع کی طرف لوٹ کر آؤں گا۔اسلام اور خود کفالت اسلام کو مورد تنقید ایک اور وجہ سے بھی بنایا جاتا ہے کہ یہ خود کفالت کا پر تو ہے۔مغربی مستشرقین نے ہمیشہ ہی مسلمانوں کی ایسی تصویر کشی ہے کہ وہ اسلام میں اپنے اعتقادات اور تعلیمات میں اندھا دھند پیروی کرتے ہیں۔اور یہ کہ اسلام ان کی روحانی اور مادی ضروریات پوری کرنے میں خود کفیل ہے۔دلیل وہ یہ پیش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو دوسروں کے اعتقادات کا علم حاصل کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ انہیں عام انسان کی ذہنی صلاحیتوں پر اعتبار نہیں کہ وہ سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکتا ہے۔منٹگمری واٹ اپنی کتاب میں اس خیال کی تاریخ 57