سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 30 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 30

یوسف علیہ السلام کے الفاظ میں کیا جو انہوں نے اپنے بھائیوں سے مخاطب ہو کر کہے تھے کہ آج تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائیگا۔(سورۃ یوسف 39:12) آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ تم آزاد ہو، اہل مکہ کی آپ کے لئے حقارت اور تضحیک، ان کا لامحدودعناد اور نفرت ، ان کی سالہا سال پر محیط بلاتعطل سنگین اور ظالمانہ ایذا رسانی، تمام لڑائی جھگڑے، تمام مشکلات اور مصائب، آپ کے پیارے اور جانثار صحابہ کا جانی نقصان۔تمام کے تمام اس فتح کے لمحہ میں ایک طرف الگ رکھ دئے گئے اور ان کی یاد ذہنوں سے اوجھل ہوگئی اور خدا تعالیٰ کے نام پر جو بے حد رحمان اور رحیم ہے، جو خالق ہے اور ہر کسی کا آقا ہے۔۔۔محبت اور رحم کے دروازے کھول دئے گئے ، صبح کے وقت جو جانی دشمن تھے وہ دو پہر تک گہرے دوست بن گئے ، بعض دل ابھی بھی پژمردہ تھے، بے عزتی جو رحمدلی کے آگے نرم پڑ چکی تھی اس کو برداشت کرنا مشکل تھا لیکن پیغمبر خدا ﷺ نے جس رحمدلی اور فراخدلی سے مرہم لگائی تھی اس کے صحت بخش اثرات کے سامنے وہ زیادہ دیر باقی نہ رہ سکی۔جس وسیع پیمانے پر آپ نے بے مثال در گذر اور ہر جہت سے پوری رحمدلی کا سلوک کیا تاریخ اس جیسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔II (Zafrullah Khan, Muhammad - Seal of the Prophets, pp 235-236) اس رحمدلی اور در گذر کی مثال کو خلفائے اسلام اور دوسرے مسلمان لیڈروں نے بھی آنحضور ے کے بعد جاری رکھا۔مثلاً مشہور صلاح الدین جس کی تعریف و توصیف میں مغربی مؤرخین بھی رطب اللسان ہیں۔عظیم فرانسیسی ادیب وولٹیئر (Voltaire) نے صلاح الدین کو اپنا ہیر و تسلیم کیا تھا۔: " وہی صلاح الدین جو صلیبی جنگجوؤوں کا عظیم ترین دشمن تھا۔جب وہ عیسائیوں کو میدان جنگ میں شکست فاش دے چکا تو مرتے دم اس نے وصیت کی کہ اس کا متروکہ مسلمان، یہودی، اور عیسائی غرباء میں غیر جانبداری کیسا تھ تقسیم کر دیا جائے۔" (Voltaire, The Rise of Christian Europe, page 104) رومانوی ناول نویس سر والٹر سکاٹ ( Sir Walter Scott) بھی سلطان و صلاح الدین کی خوبیوں کے گن گاتا ہے۔وہ اس کو یورپ کے شریف النفس حکمرانوں سے وابستہ کرتا ہے۔وہ بہ یک وقت اپنے ہیرور چرڈ دی لائن ہارٹ (Richard, the LionHeart) کے ظلم و ستم اور تشدد سے بھی خوب آگاہ تھا۔اس نے جو صلیبی جنگوں کی روئیداد لکھی وہ اس کی کہانی 30