سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 31
'The Talisman' کے دیباچہ میں لکھتا ہے : " وہ دور جس کا تعلق صلیبی جنگوں سے ہے۔۔۔وہ ایک ایسا دور تھا جس میں رچرڈ اول کے جارحیت کا کردار بہت عجیب ہے۔جنگلی مگر رحمدل، بہادری کا اعلیٰ نمونہ، خوبیوں کا اچنبھے، اور پھر اس کی نامعقول غلطیاں، یہ صلاح الدین سے متضاد تھیں۔اس کے کردار میں عیسائی اور انگریز بادشاہوں کا ظلم و استبداد، دنگہ فسا در چا بسا ہوا تھا ( جس سے کسی مشرقی حکمران کو تعلق ہونا چاہئے تھا) اس کے برعکس صلاح الدین نے نہایت درجہ پارسائی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جو کہ کسی مغربی حکمران کی حکمت عملی اور مصلحت اندیشی ہونا چاہئے تھی۔" (Walter Scott, Muslim-Christian Encounters, pp 79-80) اسی طرح کا تقابلی کردار ہمیں سپین میں نظر آتا ہے جو اسلام کی آمد کے بعد جلتی دوزخ سے نجات پا کر بہشت ارضی بن گیا۔اس کا خلاصہ مصنف سٹینلی لیپول (Stanley Lanepool) نے اپنے الفاظ میں یوں پیش کیا ہے: " اندلس پر کبھی بھی اس قد ر حمدلانہ، منصفانہ، اور دانشوارانہ حکومت کسی نے نہ کی تھی جیسی کی عرب فاتحین نے کی۔بالعموم عوام صابر و شاکر تھے بس اتنے ہی صابر و مطمئن جتنے کہ وہ لوگ جن کے حکمران ایک مختلف نسل اور عقیدہ والے تھے۔اور وہ اس سے حد درجہ بڑھ کر خوش جس قدر کہ وہ اس وقت تھے جب ان کے حکمران ان کے اپنے ہم مذہب لوگ تھے جس پر ان کا اعتقاد واجبی سا تھا۔(The Moors in Spain) "مسلمانوں نے اپنی مفتوحہ اقوام کو خواہ وہ کسی مذہب سے ہی تعلق رکھتے ہوں، اپنے مذہب کی پیروی کی کھلی آزادی دے رکھی تھی"۔Albert & E۔Vail, Transforming) (Light مسلمانوں نے جس طرح مختلف مذاہب و ملت والوں پر حکومت کی اس کی وضاحت سٹینلی لینول کے درج ذیل اقتباس میں کی گئی ہے۔: " محکوم لوگوں کو اپنے قوانین اور حج رکھنے کی اجازت تھی۔انہیں وہ حقوق حاصل تھے جن کی گوتھک ( Gothic ) بادشاہوں نے بھی اجازت نہ دی تھی۔وہ اپنی زمینیں بیچ کر سکتے تھے۔مذہبی رواداری میں انہیں کوئی خسارہ نہیں تھا۔بجائے ان پر جبر کرنے کے یا ز بر دستی ان کا عقیدہ بدلنے کے جس طرح گوتھک بادشاہوں نے یہودیوں سے کیا تھا، اس کے برخلاف عربوں نے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ کیا۔انہیں مکمل آزادی تھی کہ وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔۔۔عیسائیوں کی اپنے نئے حکمرانوں سے تشفی کا بہترین ثبوت 31