سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 29 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 29

فرانسیسی چھلوں سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔یہ چھلے نوجوان لڑکیوں کے اعضاء کے ساتھ یوں جوڑ دئے جاتے ہیں کہ ان کو الگ نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ عمر میں بڑی بھی ہو جائیں۔انہیں اتارنے کے لئے سپاہی ان کے اعضاء کاٹ دیتے اور ان کو اس زخمی حالت میں زندہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔" (Maudricourt, La Guerre et le Gouvernement de l'Algiere, Paris, 1853, page 160) اسلامی موازنه اس کے برخلاف مسلمانوں کی فتوحات کس قدر مختلف تھیں۔جب مسلمانوں نے کسی جنگ میں فتح حاصل کی تو کسی بھی جگہ پر بھی ایسی خون ریزی، ایسی بہیمیت اور ظلم و ستم کی مثال نظر نہیں آتی۔جنگی قیدیوں سے انسانی سلوک کے بارہ میں قرآن حکیم کی تعلیمات کس قدر مختلف تھیں ، ایسی تعلیمات جو فاتح کو مفتوح سے اچھا سلوک سکھلاتی ہیں۔اس ہمدردانہ تعلیم کے عملی نمونہ کی مثال آنحضور ﷺ کے نمونہ سے کہیں بہتر نہیں ہو سکتی۔مسلمان فاتحین کا حضرت محمد ﷺ کی سرکردگی میں مکہ میں داخل ہونا ، رحمدلی اور درگذر کا ایسا واقعہ ہے جس کی مثال تاریخ میں ملنا ناممکن ہے۔حضرت نبی پاک ﷺ اور ان کے پاک صحابہ کرام کے خیالات ضرور اہل مکہ کے ہاتھوں سالہا سال تک ملنے والے ایذارسانی کی طرف گئے ہوں گے۔ان کو انسانیت کی حدود سے باہر جا کر دکھ اور تکلیف پہنچائی گئی انہوں نے اپنے اہل بیت اور احباء کو ذبح ہوتے دیکھا۔اور قتل عام سے دریغ نہ کیا گیا محض اس لئے کہ وہ خدائے واحد پر ایمان رکھتے تھے۔اور جب وہ فتحیاب ہو چکے اور دشمن واقعتا ان کے قدموں پر پڑا ہوا تھا، تو ان سے کس رد عمل کی توقع ہو سکتی تھی ؟ محمد ظفر اللہ خاں جو ایک معروف مذاہب عالم کے احمدی سکالر تھے وہ اپنی کتاب Muhammad, Seal of the Prophets میں اس کا منظر یوں پیش کرتے ہیں: حضرت محمد ﷺ نے قریش کے لیڈروں کو بلایا اور ان سے سوال کیا کہ ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جانا چاہئے۔تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ ان کو جیسی بھی سزا کا حقدار سمجھیں وہی مناسب ہے۔لیکن انہیں اس بات کا علم تھا کہ آپ ﷺ ان کی برادری سے ہیں اور فراخدل بھی ہیں اور اسی کی بناء پر سلوک فرمائیں گے۔اور اس پر آپ حضور ﷺ نے سزا کا اعلان حضرت صلى الله 29