سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 185
سے کوشش کی کہ وہ تاریخ کے چند اوراق کو بدلنے میں اپنے آپ کو وابستہ کر سکے۔اس کی کتاب The Stanic Verses کی اشاعت کے بعد اسلام اور مغرب کے مابین جو سلگتی ہوئی آگ بھڑک اٹھی تھی اس کے خلاف فتویٰ اٹھا لئے جانے کے بعد وہ مدھم ہونے لگی۔تاہم رشدی اس تگ و دو میں لگا رہا کہ دنیا کی توجہ اس پر مرکوز رہے چاہے اس کے عواقب کچھ بھی ہوں۔وہ جھتی ہوئی آگ کو پھر سے بھڑکا تا آرہا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اپنی کہانی کو ان واقعات کا پیش خیمہ سمجھتا ہے جن میں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں۔رشدی نے کہا کہ "جب لوگوں نے اوّل اوّل مجھ میں اور 9/11 میں ناطہ قائم کرنا چاہا تو میں نے اس سانحہ کے اتنا بڑا ہونے کی وجہ سے تردید کی تھی۔لیکن اب مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ جو کچھ میری کتاب ادی سیٹا نک ورسز' کے ساتھ ہوا وہ گویا پیش آئند واقعہ کا نمونہ تھا اور یہ کہ اب ہم بڑے واقعہ میں آن پڑے ہیں "۔اس نے مزید کہا " اس وقت اس واقعہ کو کسی بڑے واقعہ کا چھوٹا نمونہ سمجھنے میں لوگوں کو تذبذب تھا۔جو لوگ مجھ پر حملے کر رہے تھے وہ کہنا چاہتے تھے کہ اس واقعہ سے کسی بڑے واقعہ کا سلسلہ نکالنا غلط ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ رشدی نے خاص قسم کا مکر وہ کام کیا تھا اس لئے وہ اس کے ناخوشگوار انجام کا بھی مستحق تھا"۔اور حتی کہ میرا دفاع کرنے والے لوگ کہنا چاہتے تھے کہ یہ ایک ادیب پر نا خوشگوار حملہ ہے۔لیکن میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایسا سلوک ادبیوں سے پوری دنیا میں ہورہا ہے۔لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا وہ اب کہانی نہیں ہے، اب کہانی کا رُخ بدل گیا ہے، میرے خیال میں The Stanic Verses کے بارہ میں کوئی بھی توجہ نہیں دیتا"۔(The Times, September 2005) اگر اس کی کتاب کو کوئی توجہ نہیں دیتا تو پھر اس نے ایڈنبرا انٹرنیشنل ٹیلی ویژن فیسٹیول منعقدہ اگست 2005 ء کے موقعہ پر اعلانیہ طور پر کیوں کہا تھا کہ The Stanic Verses چھوٹے ڈرامہ کی صورت میں ٹیلی ویژن پر دکھائی جائیگی اور یہ کہ ٹیلی ویژن کے حقوق ابھی تک دستیاب ہیں۔اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ فرانسیسی زبان میں بھی اس کتاب کو فلمائے جانے کا پراجیکٹ زیر غور ہے۔185