سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 186
اس فیسٹیول کے موقعہ پر رشدی کی لیبر پارٹی کے ممبر آف پارلیمنٹ جارج گیلا وے (George Gallaway) کے ساتھ 28 اگست 2005 ء کو ٹیلی ویژن پر ایک مباحثہ بعنوان اٹی وی اور مذہب' کے دوران کھٹ پٹ ہوئی تھی۔اس نے مباحثہ میں پورے جوش سے دلائل دئے کہ اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہے سو کہے۔رشدی اس فیسٹیول کے موقعہ پر اپنے نئے ناول کی تشہیر بھی کر رہا تھا۔پہلے کی طرح رشدی نے اسلام اور مغرب کے تعلقات کو متاثر کرنے والے حادثات پر غور کرنے کے لئے مزعومہ فرضی ناول لکھا تھا۔اس کا تازہ ناول Shalimar the Clown' جدید دور کی دہشت گردی کے متعلق ہے اگر چہ وہ اس کی تردید کرتا ہے۔اس نے یہ کہہ کر اپنی بے حیائی کا ثبوت دیا ہے کہ اگر چہ وہ بھی بھی کسی ٹریننگ کیمپ میں نہیں گیا تا ہم چونکہ وہ فتویٰ کی دھمکی کے زیر اثر (1989 سے لے کر 1998 ء ) رہ چکا تھا اس لئے اس کے پاس کافی وقت تھا کہ ایسے لوگوں کی ذہنیت جان سکتا جو وہاں جاچکے ہیں "۔واقعی اس کی قابلیت کی کوئی حد نہیں !!۔اشالیمار دی کلاؤن' کی کہانی مختلف براعظموں پر محیط اور اس کا زمانہ دوسری جنگ عظیم سے لے کر ماڈرن امریکہ اور جہادی ٹریننگ کیمپ تک ہے۔یوں شاطرانہ طریق سے 9/11 اور اس کے عرصہ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔اپنی نئی کتاب پر بحث کرتے ہوئے وہ اپنی تر دید خود کرتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ " در اصل آپ کو کرنا یہ ہے کہ ان لوگوں کے دماغ کے اندر گھنے کے لئے تصوراتی چھلانگ لگانی ہے " ( دی ٹائمز ستمبر 2005ء)۔اس نے یہی دلیل ادی سیٹنگ ورسز' لکھنے پر پیش کی تھی۔وہ ابھی تک اس مغالطے میں ہے کہ اگر آپ کسی چیز کو فرضی کہہ دیں چاہے وہ اصلی لوگوں اور واقعات سے مشابہ ہو تو اس قسم کی کتاب کو ادب کا من گھڑت کام سمجھا جائے گا (اور اسے بوکر پرائز کا بھی حق دار سمجھا جائیگا۔رشدی تاریخی واقعات کو بڑے عیارانہ طریق سے اپنے ناول لکھتے وقت استعمال کرتا ہے مثلاً :'Midnight's Children' کا تعلق ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے ہے۔ادی جیگوئر سمائیل' The Jaguar Smile کا تعلق نکا را گوا کے ڈکٹیٹر سو موزا کے خلاف سیڈ انسٹاس کی حمایت میں ہے۔لیکن جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو پھر افسانوی دنیا دھوکے،فریب 186