سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 184
جب میری کتاب 'Rushdie: Haunted by his unholy ghosts' منظر عام پر آئی تو اس کے حرف آخر میں راقم الحروف نے رشدی کو یہ مشورہ دیا تھا کہ اس کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ اب اس کو ا فراموش شدہ انسان سمجھا جائے۔کچھ عرصہ کے لئے وہ واقعی زیرزمین چلا گیا اور اس کے بارہ میں پریس اور ذرائع ابلاغ میں بمشکل ہی کوئی خبر آتی تھی۔یہاں تک کہ 1998ء میں اس پر لگے فتویٰ کو بھی اٹھا دیا گیا۔مگر کیا اس کی انانیت اس کو شہرت سے دور رہ کر خوش دیکھ سکتی تھی ؟ ہر گز نہیں۔ایک ایسا آدمی جس نے شہرت اور پیسے کی تمنا میں اس قدر تگ و دو کی تھی اور جو شہرت اور پیسے کا مزہ لوٹ چکا تھا، یہ ایک ایسی بات تھی کہ اس کے لئے لمبے عرصہ تک اس سے باز رہنا مشکل امر تھا۔رشدی نے ایک بار پھر ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا شروع کی۔مگر اس دفعہ اس نے میڈیا میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو مشورہ دینا چاہا کہ اسلام کو کس طرح ماڈرنائز کیا جاسکتا ہے، تا جدید رجحانات کو قبول کیا جا سکے خواہ اس کے عوض اسلام کے بنیادی عقائد اور اصولوں کو قربان کر دیا جائے۔اس نے پریس میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی خاموش اکثریت کو تشدد پسند لوگوں سے مقابلہ کرنے پر ابھارا تا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع ہو جائے۔(The Times, London, August 28, 2005) یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ مزعومہ بنیاد پرست تحریک کو رشدی افئیر کے بعد لبرل مسلمانوں میں جڑیں پھیلانے کا موقعہ ملا تھا اور یہ کہ اس کے نتیجہ میں ایسے بین الاقوامی حادثات رونما ہوئے جنہوں نے اسلام کے تصور کو بری طرح مسخ کیا تھا۔بدنام زمانہ واقعات میں سے 9/11 اور اس کے بعد 7/7 کے جو نیو یارک اور لندن میں واقعات ظہور میں آئے ان کے بعد اسلام اور مغرب کے مابین مصالحت کے جو کچھ امکانات تھے وہ بالکل معدوم ہو گئے۔سلمان رشدی نے اس میں اپنا رول پوری طرح ادا کیا تا اس کے آقاؤں کے عزائم و مقاصد کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔اگر چہ اس نے ان مذکورہ سانحوں سے اپنے آپ کو دور رکھا تا ہم اس نے کچھ حیلوں بہانوں 184