سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 172
سابقہ کتابوں کی کچھ زیادہ ہی تعریف کی گئی تھی اس لئے ادب کے نقادوں کا متحدہ ٹولہ خود کو گراں بار محسوس کرتے ہوئے ناول کے معیار پر ضرورت سے زیادہ زور دیتا ہے۔مثلاً ناول کے شروع میں متعدد حوالے دئے گئے ہیں جن میں رشدی کی قابلیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب ادب کا شاہکار ہے (Stephen King)۔بہ حیثیت قلمکار، باپ اور شہری کے رشدی کا دل موہ لینے والا شیریں کلام (Edward Said, Independent on Sunday)۔رشدی کی نرغے میں آئی ہوئی جان کی بازگشت کو خراج عقیدت ( ,Anthony Burgess Observer)۔بچوں کی کلاسک کتاب۔اس کا پہلا ایڈیشن سنبھال کر رکھو تا اس کو اپنے پوتوں کے لئے پیچھے چھوڑ جاؤ۔(Victoria Glendinning, The Times) لیکن میرے خیال میں ہندوستان کے رسالہ ' انڈیا ٹو ڈے' کے ایک مبصر نے رشدی کی کتاب لکھنے کی اصل غرض یہ کہ کر واضح کی ہے کہ : " یہ اس کے فن کی آزادی کا گن گانے والا دفاع ہے جس میں وقفہ وقفہ کے بعد گستاخانہ رنگ میں مسلمان سپاہیوں نے رکاوٹ پیدا کی ہے"۔اس نکتہ کو بڑی شد و مد کے ساتھ Sunday Telegraph کے اے این ولسن )۔A۔N Wilson) نے دوبارہ یہ کہتے ہوئے پیش کیا کہ : " یہ کتاب ایسی دنیا میں جو پہلے سے زیادہ آزادی یا خیالات سے خوفزدہ ہے ایک جگ مگ کرتے چراغ کی طرح چمکتی ہے "۔رشدی نے اپنے آرٹسٹ کے لائیسنس کا غنائیہ دفاع کو اپنے اگلے ناول میں جاری رکھا جس کا نام 'ایسٹ ویسٹ (East, West) تھا جو 1994ء میں منظر عام پر آیا تھا۔ایسٹ ویسٹ - East, West یہ کتاب بھی بچوں کا ناول تھی۔جیسا کہ اس کا عنوان بتلاتا ہے یہ مشرق اور مغرب کی کہانیوں اور حکایات کا مجموعہ ہے۔وہ مشرق کے تمام وحشیانہ اور غیر مہذب رسم و رواج کو قلم بند کرتے ہوئے یہ تاثر دیتا کہ یہ وہاں کا عام رواج ہے۔ایک حکایت میں جس کا نام " پیغمبر کا بال" (The Prophet's Hair) ہے اس میں اسلامی طریق نماز کا استہزاء کیا گیا ہے جیسے اس نے گزشتہ کتابوں میں کیا تھا۔ہاں اس بار اس نے پیغمبر اسلام ﷺ کیلئے ہتک آمیز الفاظ استعمال الله 172)