سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 173
نہیں کئے ہیں۔وہ نماز اور قرآن مجید کی تلاوت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ بچوں کیلئے عقوبت نفس ہے۔ایک نو جوان مسلمان بچے کی عمومی زندگی کی غلط تصویر کشی کر کے شاید وہ مغرب میں رہنے والے بچوں کو اسلام کی سچی تعلیمات کو جاننے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس کے برعکس ایک اور حکایت جس کا عنوان Christopher Columbus and the Queen) (Isabella of Spain consummate their Relationship ' کرسٹوفر کولمبس اور کوئین از ابیلا شب عروسی مناتے ہیں، ہے اس میں وہ جنسی قصے کو یوں سحر انگیز رنگ میں پیش کرتا ہے جس سے مصنف کے لا ابالی پن کا پتہ چلتا ہے۔یہ کتاب بچوں کیلئے ناول تھا مگر ستم تو یہ ہے کہ اس کی زبان نہایت مکروہ اور اخلاقی لحاظ سے گری ہوئی ہے۔مثلاً ایک کہانی جس کا عنوان The Courtier ( دی کورٹیئر ) ہے رشدی نے چند ہی سطور میں ایف۔۔۔F" کا لفظ کم از کم دس دفعہ استعمال کیا ہے (صفحات 205-204)۔غالباً ایسا آرٹ کے نام پر کیا گیا تھا!! ایسا لگتا ہے کہ سلمان رشدی نے ہمیشہ یہ یقین کیا تھا اور اب بھی یقین کرتا ہے کہ چونکہ اس کے پاس ایک قلم کار کا اجازت نامہ ہے اس لئے وہ جو چاہے سوکرے۔چونکہ اس کو اعزازات سے نوازا جارہا ہے، اس کی بے بہا تعریف کی جارہی ہے اس لئے ہر وہ کتاب جو وہ لکھتا اس کے بعد اس کی انا غرور سے پھول جاتی ہے۔173