سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 48
حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے واشگاف اعلان کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات صلیب پر ہرگز نہیں ہوئی۔عیسائیوں کیطرح دوسرے تمام قدامت پسند مسلمانوں کو بھی اس دعوی نے چونکا دیا جو اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے ہمراہ آسمان پر زندہ موجود ہیں جبکہ ان کے اپنے پیارے محبوب نبی محمد عه زمین میں مدفون ہیں۔اس ز بر دست دعوی کے پیش نظر اس امر میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ مرزا غلام احمد علیہ السلام پر مسلمانوں اور عیسائیوں نے باہم مل کر ہر طرف سے حملے کرنا شروع کر دئے۔اگر چہ باقی مسلمانوں نے انہیں کوئی خاص وقعت نہ دی اور احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھ لیا، تا ہم حضرت مرزا غلام احمد کی آمد سے نیند کی آغوش میں پڑے مسلمانوں پر گہرا اثر ہوا۔یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس زیادہ وسائل نہیں تھے، کوئی مادی طاقت اس کی پشت پناہی نہیں کر رہی تھی ، وہ خود تن تنہا تھا ، اس نے ایسے نا قابل یقین دعاوی عیسائیت کی بالا دستی کے خوف کے بغیر کر دئے؟ اس چیز نے ایک سے زیادہ طریقے سے دوسرے مسلمانوں کو ہمت اور یقین کامل بخشا کہ وہ اُٹھ کھڑے ہوں ، اپنے ارد گرد دیکھیں اور اپنے دین کا دفاع شروع کریں۔تحریک احیاء دین کی کئی ایک تحریکات چل پڑیں جن کا مقصد مذہب کی طرف لوٹنا تھا۔اس دقت سے لے کر اب تک عموماً مگر خاص طور پر مذہبی شعور اور قدامت پسندی کی طرف لوگوں کا رجحان ہو گیا ہے۔کئی ایک تو حد سے بڑھ گئے اور ضرورت سے زیادہ آگے بہت آگے نکل گئے ہیں۔انہوں نے اپنے اوپر یہ فرض کر لیا ہے کہ قوم کو دنیا داری اور مغربیت کی طرف پھسلنے سے بچانا ہے جس کو وہ کفر اور فقدان اخلاق کے برابر سمجھتے ہیں۔انہوں نے انقلابی رول ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔پاکستان اور ایران اس عالمی رجحان کی دنیائے اسلام میں ڈرامائی مثالیں ہیں اور مذہبی قدامت پسندی کی طرف واپس لوٹنے کی مہم ایک نئی اور زبردست طاقت کی طرح محسوس کی جارہی ہے۔مایوسی کا عالم اور مغرب کا خوف یہ سب کچھ مغربی عیسائی اقوام کے لئے زبردست دھچکا کا موجب بنا ہو گا جن کے برے 48