سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 47 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 47

باب پنجم مصلح وقت کا ظہور اسلام بے شک اس وقت پست حالت میں تھا۔مصلح زمانہ کے ظہور کے لئے یہ نہایت موزوں وقت تھا تا وہ تحفظ مذہب کا دعویٰ کرے اور اسلام کو اس کی اصلی حالت اور قرون اولیٰ کی شکل میں بحال کر دے۔یوں اسلام کے پیغمبر ﷺ کی ایک دوسری پیش گوئی کا پورا ہونا مقدر تھا۔قادر مطلق کا یہی منصوبہ تھا کہ جس طرح پر آنحضور ﷺ کی بعثت ایسے لوگوں میں ہوئی جو تاریک زمانہ کے تاریک ترین دور میں رہ رہے تھے اور جو دور جا ہلیت کہلاتا تھا۔اس وقت بنی نوع انسان روحانیت سے عاری ہو چکی تھی پس اسی طرح آج کے دور کے مصلح کا ظہور بھی ایسے لوگوں میں ہونا مقدر تھا جنہوں نے اسلام کو ماسوائے اس کے نام کے صفحہ ہستی سے مٹادیا ہوا تھا۔بالکل جس طرح محمد ( ﷺ ) اس دور کا مرد کامل تھے اسی طرح مصلح زمانہ کا دین اسلام کے دفاع کے لئے ساز وسامان سے لیس ہونا ضروری تھا۔مصلح وقت حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے مسیح اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا جس کا ہر کسی کو انتظار تھا آپ احمد یہ مسلم جماعت کے بانی تھے۔آپ نے اسلام کا مکمل طور پر دفاع کرنے کیلئے معقول، مؤثر اور دل موہ لینے والے دلائل اس کی صداقت کے ثبوت میں پیش کئے۔آپ نے محمد ﷺ کو نا پاک حملوں سے بری ثابت کیا اور آنحضور اللہ کا شریفانہ کردار جو اصلیت کا جیتا جاگتا نمونہ تھا اسے بدنما اور داغدار دھبوں سے صاف کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور ایسا کارنامہ سرانجام دیا جو کسی دوسرے مسلمان نے سرانجام نہ دیا تھا اور وہ تھا عیسائیت کو اس کی بنیادوں سے جس پر اس کی تعمیر ہوئی تھی اکھیڑ دینا، یعنی تثلیث کا عقیدہ۔آپ نے فی الواقعہ صلیب کو توڑ دیا اور یہ سب برطانوی حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا جو بزعم خود نصرانیت کے دفاع کے دعویدار تھے۔47