سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 49 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 49

عزائم اور تدابیر ایک دفعہ پھر سے ناکام ہوگئیں۔انہوں نے سنجیدگی سے غور کیا ہوگا کہ سابقہ صدی کے اختتام پر انہوں نے اپنی کر تو تیں دکھا دیں اور اسلام کو ہادی برحق ﷺ کی طرح وفات یافتہ قرار دے کر اسے مدفون کر دیا تھا جبکہ عیسائیت بادلوں کے دوش پر عروج کی پرواز کرتے بظاہر نظر آ رہی تھی۔لیکن مغرب کے لئے ابھی بدتر حالات مقدر تھے۔پچھلی دو تین دہائیوں میں خصوصاً برطانیہ اور بعض دوسرے یورپین ممالک کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا کی طرف تمام دنیا کے نسلی گروہوں کی بھاری تعداد میں نقل مکانی نے مغرب کے معاملات کو تہ و بالا کر دیا۔یہ درست ہے کہ بعض نسلی اقلیتوں کے کلچر پر بر تر مغربی کلچر مکمل طور پر چھا گیا تھا، ویسٹ انڈیز ، افریقہ، مشرق بعید اور ہندوستان کے لوگوں نے مغربی طرز معاش میں گھل مل جانے کی کوشش کی ہے تا وہ مغربی معاشرے میں قبول کر لئے جائیں اور بنیادی طور پر انہوں نے غیر مداخلت کا رویہ روا رکھا ہے ، یہ جان کر کہ جب روم میں ہو تو رومن لوگوں جیسا بود و باش اختیار کر لو۔اگر چہ ان نو آباد کاروں نے اپنے بنیادی مذہب کو ایک حد تک محدود رکھا ہے تاہم انہوں نے معاشرتی پہلو سے مغربی عادات اپنالی ہیں۔مثلاً مرد و عورت کا آزادی کے ساتھ میل جول کرنا ، ان کے لباس کی طرح لباس پہننا، بلا روک ٹوک شراب نوشی کرنا ، رقص کرنا اور جو اکھیلنا۔اہل مغرب کا خیال تھا کہ شاید بھولپن کی وجہ سے مسلمان بھی گمراہ ہو کر اپنے دین سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور صراط مستقیم سے بھٹک جائیں گے اور اسلام کا نام رفتہ رفتہ پارہ پارہ ہو جائیگا۔لیکن اہل مغرب کو کف تاسف ملنا پڑا اور اسلام نے بنیاد پرستی کی طرف ڈرامائی انداز میں منہ موڑ لیا۔قانون ، اقتصادیات ، اور خاص طور پر تہذیت میں بنیاد پرستی۔اسلام کے اس احیاء کے ذریعہ ابتدائی دور کے اسلام کی طرف واپس جانے کا رجحان پیدا ہو گیا۔نہ صرف اسلامی ممالک میں بلکہ مغرب میں بھی، مغربی عیسائی اقوام کی سرزمین کے عین درمیان۔محلہ کی مسجد میں امام لصلوۃ کا سماجی درجہ ایک حد تک بہتر ہو گیا اور اس کے نقطہ نظر کو نہایت درجہ تکریم کے ساتھ سنا جانے لگا۔اس مذہبی ماحول میں سرگرمی کا ایک اور پہلو یہ نکلا کہ مذہبی طلباء کی انجمنوں نے پروان چڑھ کر مقبول عام ہونا شروع کر دیا۔ان انجمنوں نے مغرب کے خلاف کئی ایک مظاہروں کا انتظام وانصرام کیا۔یادر ہے کہ ایسے تمام مظاہرے حقیقی طور پر اسلامی نہیں ہیں لیکن ان سے مذہب کے 49