سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 27
(Amalekites) قوم کے لئے مقدر کیا تھا۔" (The Rise of Christian Europe, pp 101/102) سرسٹیون رسی مان (Sir Steven Runciman) نے صلیبی جنگوں اور عصر حاضر کا عیسائی متوازن نقطہ نظر اپنی تین جلدوں پر مشتمل کتاب کے آخر پر پیش کیا ہے۔اگر چہ اس نے نرم زبان اور لب ولہجہ اختیار کیا ہے لیکن پھر بھی صلیبی جنگوں کے ظلم وستم اور بہیمت کا اندازہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔صلیبی جنگوں کی فتح دراصل مذہب کی فتح تھی۔لیکن مذہب بغیر دانشمندی کے خطرناک چیز ہے صلیبی جنگیں المناکی اور بربادی کی داستان تھی۔جب ایک مؤرخ صدیوں پرانے واقعات پر نظر ڈالتا ہے تو ان بہادری کی کہانیوں کے سامنے اس کا جذبہ تعریف غم کے نیچے چھپ جاتا ہے اور اس سے انسانی فطرت کی خامیوں کی نشاندہی ہونے لگتی ہے۔بہادری کی فراوانی کے ساتھ ساتھ بلند مقاصد، ظلم اور لالچ مہم جوئی اور ثابت قدمی کے ساتھ اندھی اور تنگ نظر خود راستی نے کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔جنگ مقدس اس سے زیادہ کچھ نہ تھی کہ خدا کے نام پر غیر رواداری کا لمبا عمل ثابت ہوئی جو روح القدس کے خلاف گناہ ہے " (A History of the Crusades, Harmondswoth, Penguin, 1965, p 480) صلیبی جنگیں ، نو آبادیات اور سامراجیت جب مغرب کی عیسائی اقوام مسلمانوں کا یورپ سے اخراج کر چکیں تو انیسویں صدی کے دوران برطانیہ اور فرانس نے مسلمان ممالک پر حملے کرنے شروع کر دئے۔مثلاً فرانس نے 1830ء میں الجیریا کو اپنی کالونی بنالیا، اور برطانیہ نے عدن کو 1839ء میں کالونی بنالیا۔باہمی طور پر دونوں ممالک نے تیونس (1881ء)، مصر (1882ء )،سوڈان (1898ء )، لیبیا اور مراکش ( 1912ء) پر قبضہ کر لیا۔اگرچہ 1920ء میں انہوں نے عرب اقوام سے وعدہ کیا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کی پسپائی کے بعد ان کو آزادی دے دی جائیگی لیکن پھر بھی برطانیہ اور فرانس نے شرق اوسط کو زیر انتظام ریاست اور زیر نگرانی ریاست میں تقسیم کر کے قبضہ جمائے رکھا۔صلیبی جنگوں، یوروپین نو آبادیاتی نظام اور عیسائی مشنری کام میں گٹھ جوڑ پر کافی بحث و تکرار ہو چکی ہے، اہل مغرب نے اس نظریہ کو تسلیم کرنے میں انقباض ظاہر کیا ہے لیکن بعض مستشرقین اور مغربی 27