سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 28 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 28

مصنفین نے دیانت داری سے کام لیتے ہوئے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا ہے۔مثلاً منٹگمری واٹ اپنی کتاب میں لکھتا ہے : " تاریخ کی سدھ بدھ رکھنے والے عیسائی آج صلیبی جنگوں پر نازاں ہیں اور شاید یہ کہنے میں دریغ نہیں کرتے کہ ان میں کالونیلزم کا عنصر شامل تھا۔" (Watt, Muslim-Christian Encounters, page 82) کیرن آرام سٹرانگ (Karen Armstrong) جو ایک برطانوی مصنفہ، براڈ کاسٹر اور سابقہ رومن کیتھولک راہبہ ہے۔وہ دوسروں سے زیادہ دیانت دار ہے۔اس نے مسلمانوں کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے اپنی کتاب Muhammad, A Western Attempt to Understand Islam میں لکھا ہے : " آج کے دور میں اسلامی دنیا مغربی سامراجیت اور عیسائی تبلیغ کا صلیبی جنگوں سے رابطہ نکالتی ہے، اور وہ ایسا کرنے میں غلط ڈگر پر نہیں ہیں۔جب 1917ء میں جنرل ایلین بی (General Allenby) یروشلم میں داخل ہوا تو اس نے صلیبی جنگوں کی تکمیل کا اعلان کیا۔جب فرانسیسی دمشق میں داخل ہوئے تو ان کا کما نڈر سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزار واقع جامع مسجد پر کھڑے ہو کر چلا یا " اے صلاح الدین ہم لوٹ آئے"۔عیسائی مشنری کام نو آبادیات بنانے والوں کی پشت پناہ پر تھا تا کہ مسلمانوں کی روایتی تہذیب کو مفتوحہ ممالک میں کم تر کر دے۔نو آبادیات بنانے والوں کی منطق کچھ اس طرح تھی کہ وہ انہیں ترقی اور روشن خیالی کی ڈگر پر ڈال رہے ہیں لیکن ان کو اس کوشش کا جواب تشدد اور حقارت کی صورت میں ملا۔" (K۔Armstrong, Muhammad, page 40 ) یہ ظلم وستم اور بہیمانہ سلوک انیسویں صدی اور بیسویں صدی پر حاوی رہا۔الجیریا میں امن لانے میں کئی سال بیت گئے اور جب بھی الجیریا کے عوام نے مزاحمت کی تو اسے جوابی وحشیانہ حملوں کے ذریعہ پچل دیا گیا۔عصر حاضر کا فرانسیسی مؤرخ ایم باڈری کورٹ (M۔Baudricourt ) ان جوابی حملوں کی جھلک یوں پیش کرتا ہے : " ہمارے سپاہی جو حملے سے واپس آرہے تھے وہ شرمسار تھے قریب اٹھارہ ہزار درخت خاکستر کر دئے گئے ، عورتیں، بچے اور ضعیف العمر افراد موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔بعض بد قسمت خواتین جن کو کان میں بالیاں، بازو پر ، یا ٹانگ میں چاندی کے چھلے پہننے کی عادت تھی، ان کو دیکھ کر حرص کی دیوی بیدار ہو جاتی تھی۔ان چھلوں کا 28