سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 26
قدر بہیمانہ تھا کہ نا قابل تصور ہے۔" صلیبی جنگجوؤوں نے ارض مقدس میں مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام بلا تفریق کیا حتی کہ عورتیں اور بچے بھی نہ بچ سکے" (صفحات 115-116 )۔وہ جو ایک مقدس جنگ تھی آخر کار وسیع پیمانہ پر بربریت کی شکل اختیار کر گئی۔اس دور کے اور اس کے بعد آنیوالی صدیوں میں ہونے والے عیسائی مؤرخین نے ان راہزن صلیبی جنگجوؤوں کی لوٹ مار کی تصدیق کی ہے اور ان کے ہر بہیمانہ عمل کا جواز نکال کر عیسائیت کا تحفظ کرنے والوں کی تعریف اور شہادت کے رنگ میں تصویر کشی کی ہے۔ایک برطانوی مؤرخ ٹریور رو پر (Trevor Roper ) نے اپنی کتاب میں ان میں سے چند ایک کا ذکر ایڈورڈ گبن (E۔Gibbon) کے حوالہ سے کیا ہے۔" سادہ لوح صلیبی جنگجو جنہوں نے اپنے اشتعال انگیز مگر مقدس اعمال کی تاریخ کے واقعات کو درج کرنے کا وقت نکال لیا۔وہ جب ہر خونریز باب کا خاتمہ کرنے لگے تو کتاب مقدس سے حوالے نکالے اور اپنے عزائم پر سوچ بچار کی تو وہ سولہویں صدی کے ہسپانوی فاتحین (conquistodors) سے کچھ کم نہ تھے۔ان کے نزدیک ترک قوم رسوا اور بد بخت منکرین میں سے تھی۔وہ خدا اور ہم سب کے دشمن تھے، جبکہ عیسائی جو جنگوں میں مارے گئے تھے وہ جنت نصیب ہوئے جہاں وہ سفید چولہ زیب تن کئے ہوئے ہیں اور شہادت ان کی فتحیابی کی علامت ہے"۔(The Rise of Christian Europe, page 101) ٹریور رو پر نے وضعدار فرقہ جیسوایٹ (Jesuit ) سے منسلک لوئیس مائم برگ ( Louis Maimbourg) کے چند ایک نظریات کا بھی ذکر کیا جوصلیبی جنگجوؤں کے اعمال کو حق بجانب گردانتا ہے۔اس کے نزدیک صلیبی جنگیں کچھ بھی ہوں مقدس جنگیں تھیں، جن کی بربریت کا جواز ان کے اعلیٰ روحانی مقاصد میں پنہاں تھا۔پھر وہ مزے لے کر بیان کرتا ہے کہ کس طرح یروشلم کو فتح کرنے کے بعد عیسائیوں نے بحیثیت فاتح اپنی فتح کے حقوق سے فائدہ اٹھایا۔ہر جگہ بکھرے ہوئے قلم شدہ انسانی سر کاٹی ہوئی ٹانگیں اور جسم سے الگ کئے گئے بازو، جسم ٹکڑوں میں چیرے ہوئے دکھائی دیتے تھے انہوں نے ماؤں کی گودوں میں موجود بچوں کو قتل کر کے ان کا نشان مٹا دیا ، تا اس بد بخت قوم کے ساتھ وہی کچھ ہو گزرے جو خدا نے اس سے قبل عملی کا ٹیٹس 26