سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 193 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 193

ارشادات امام جماعت احمدیہ اسلامی دنیا کی طرف سے سب سے زیادہ مؤثر اور زور دار جواب حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دیا جو جماعت احمد یہ عالمگیر کے روحانی سربراہ ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ یہی وقت ہے کہ جملہ مذاہب کے لیڈروں کو حساس مذہبی معاملات پر حملوں کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔انہوں نے برطانیہ کے میڈیا کو مبارکباد دی کہ کس طرح انہوں نے اس قابل افسوس تنازعہ میں کوئی بھی کارٹون نہ شائع کر کے نہایت ذمہ داری کا ثبوت دیا۔آپ نے فرمایا: ” آج کل ڈنمارک اور مغرب کے بعض ممالک میں آنحضرت ﷺ کے بارہ میں انتہائی غلیظ اور مسلمانوں کے جذبات کو انگیخت کرنے والے ، ابھارنے والے، کارٹون اخباروں میں شائع کرنے پر تمام اسلامی دنیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ رہی ہے اور ہر مسلمان کی طرف سے اس بارے میں رد عمل کا اظہار ہو رہا ہے۔بہر حال قدرتی طور پر اس حرکت پر ردعمل کا اظہار ہونا چاہئے تھا۔لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا رد عمل کبھی ہڑتالوں کی صورت میں نہیں ہوتا اور نہ آگئیں لگانے کی صورت میں ہوتا ہے اور نہ ہی ہڑتالیں اور توڑ پھوڑ، جھنڈے جلانا اس کا علاج ہے۔“ ”ہمارا رد عمل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے اور ہونا چاہئے جس سے آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور اسوہ نکھر کر سامنے آئے۔قرآن کریم کی تعلیم نکھر کر سامنے آئے۔آنحضرت ﷺ کی ذات پر نا پاک حملے دیکھ کر بجائے تخریبی کاروائیاں کرنے کے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس سے مدد مانگنے والے ہم بنتے ہیں۔“ جیسا کہ میں نے کہا یہ تمبر کی حرکت ہے یا اکتوبر کے شروع کی کہہ لیں۔تو ہمارے مبلغ نے اس وقت فوری طور پر ایک تفصیلی مضمون تیار کیا اور جس اخبار میں کارٹون شائع ہوئے تھے ان کو بھجوایا اور ان خاکوں کی اشاعت پر احتجاج کیا۔ہم جلوس تو نہیں نکالیں گے لیکن قلم کا جہاد ہے جو ہم تمہارے ساتھ کریں گے۔اور خاکوں کی اشاعت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔اس کو بتایا کہ ضمیر کی آزادی تو ہوگی لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کی دل آزاری کی جائے۔بہر حال اس کا مثبت رد عمل ہوا۔ایک مضمون بھی اخبار کو بھیجا گیا تھا جو اخبار نے شائع کر دیا۔ڈینیش عوام کی طرف سے بڑا اچھا رد عمل ہوا کیونکہ مشن میں بذریعہ فون اور خطوط بھی انہوں نے ہمارے مضمون کو کافی پسند کیا، پیغام آئے۔“ 193