سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 192
شہزادہ چارلس کا خطاب مثبت امور میں برطانیہ میں ایسے اخبارات بھی ہیں جنہوں نے خاکے شائع کرنے سے صریحاً انکار کر دیا۔شہزادہ چارلس نے اپنی اہلیہ کا میلا (Camilla) کے ساتھ مشرق وسطی کے دورے کے دوران قابل مذمت خاکوں پر کڑی تنقید کی۔مصر میں قیام کے دوران پرنس چارلس نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لوگ " سنتے کم ہیں اور ان امور کا احترام نہیں کرتے جو دوسروں کے نزد یک مقدس اور بیش قیمت ہیں"۔پرنس نے یہ بات قاہرہ کی سب سے پرانی الا ز ہر یونیورسٹی کے 800 مسلمان سکالرز کے سامنے 'Unity in Faith' کے موضوع پر تقریر کے دوران کہی۔شہزادہ نے مختلف مذاہب کے مابین مزید حمل و رواداری کی تلقین کی ، خاص طور پر تین بڑے مذاہب یہودیت ، عیسائیت اور اسلام جن کا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہے۔" ہمارے مذاہب جن میں ہم سب شریک ہیں اس کی بنیادی جڑ یہ ہے کہ ہم سب ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں، یعنی ابراہیم کا خدا۔یہ چیز ہمیں لازوال اقدار مہیا کرتی ہے۔ہم میں اتنی جرات ہونی چاہئے کہ ہم ان کا پرچار کریں ، اور ان کا اقرار اس دنیا میں بار بار کریں جو مناقشت و تفرقہ میں گھری ہوئی ہے "۔شہزادہ چارلس نے مزید کہا کہ : " ڈینش کارٹونوں پر جس قسم کے غم وغصہ اور تضاد کا مظاہرہ کیا گیا اس سے یہ کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ دوسروں کو نہ سننے کے کیا نقصانات ہیں نیز ان چیزوں کا احترام نہ کرنا جو دوسروں کے نزدیک مقدس ہیں۔میرے خیال میں کسی مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اقلیتوں اور اجنبیوں کا کس قد را حترام کرتا ہے"۔شہزادہ چارلس نے مذہبی لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ تحمل اور رواداری کے پر چار میں اپنا رول پوری طرح ادا کریں۔"ہم سب کو رحم اور رحمدلی کے خدائی اوصاف کو سینے سے لگائے رکھنے کے علاوہ ان کا پر چار کرنا اور ان پر عمل کرنا ہوگا۔اس کے لئے مکمل اطمینان اور مزاحمت سے باز رہنے کی ضرورت ہے۔اور اگر مجھے کہنے کی اجازت ہو تو کہوں کہ وہ تمام افراد جو مختلف مذاہب میں کسی اعلیٰ پوزیشن یا اتھارٹی میں ہیں وہ کھل کر تو اتر کے ساتھ خدائی اوصاف کی بے پایاں اقدار کی تشہیر کریں"۔192)