سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 191 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 191

احتجاج کا طوفان برپا ہوا۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہی کارٹون ستمبر 2005ء میں ڈنمارک کے اخبار میں جب شائع ہوئے تو اس سے پوری دنیا میں صدائے احتجاج بلند نہ کی گئی جواب دیکھنے میں آئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے پیچھے ضرور کوئی غلیظ شرارت کارفرما تھی۔پہلی بارستمبر 2005 ء میں جب خاکے شائع ہوئے تو شرارت پسند اپنے مذموم مقاصد حاصل نہ کر سکے اس لئے انہوں نے انگریزی ذرائع ابلاغ میں ان کو شائع کر کے مسلمانوں کو زک کرنے کی بھر پور کوشش کی کیونکہ انگلش میڈیا کے پڑھنے والے تعداد میں زیادہ ہیں۔مقام افسوس یہ ہے کہ سادہ لوح مسلمانوں کی اقلیت نے غیر اسلامی طریق سے مظاہرے کر کے قومی جھنڈے نذر آتش کر کے اور نہ صرف ڈینش حکومت کو دھمکیاں دے کر بلکہ تمام مغربی حکومتوں کو دھمکیاں دے کر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔اس واقعہ سے وہ زخم دوبارہ کھل گئے ہیں یا پہلے زخموں کو مزید گہرائی سے کاٹا گیا ہے جو کچھ کچھ مندمل ہونا شروع ہو گئے تھے۔اب مغربی سوسائٹی کے مؤثر اور معتبر افراد اور اسلامی دنیا کے مابین دوبارہ بحث و تمحیص شروع ہونی چاہئے تا پتہ لگایا جا سکے کہ آخر اصل معاملہ کیا ہے؟ اور یہ کہ بجائے منفی کے مثبت چیزوں کو سامنے رکھ کر صبر و استقلال سے صورت حال کا سیاق و سباق کے ساتھ جائزہ لیا جائے۔منفی اور مثبت چیزیں دونوں اطراف سے آئیں گی۔ایک طرف تو مغربی ذرائع ابلاغ کا سلسلہ مدارج ہے جو اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اس پر بالکل نادم نہیں۔وہ خود کو آزادی اظہار کے نعرے کے پردہ کے پیچھے چھپائے ہوئے ہیں۔وہ رشدی جیسوں کو اس بات کی اجازت دے رہے ہیں کہ وہ لوگوں کے جذبات و عقائد کے ساتھ کھیلیں جو مسلمانوں کو بہت محبوب ہیں۔دوسری طرف اسلامی دنیا سے مذہب کا دفاع کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جنہوں نے اپنے نظریات کے پر چار میں تشدد سے نا قابل قبول حد تک کام لیا ہے۔یہاں تک کہ 14 فروری 2006ء کو ایران کی انتہا پسند تنظیم شہداء فاؤنڈیشن نے سلمان رشدی پر لگے فتویٰ کی دوبارہ توثیق کر دی جو اس پر 1989ء میں لگایا گیا تھا اور اس کے سر کی قیمت 2۔8$ ملین ڈالر کر دی۔191)۔