سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 190
امریکہ کی مشہور ترین پروگرام پیش کرنے والی او پراون فری (Oprah Winfrey) نے اس کو اس کی جرات، دلیری اور یقین کامل پر پہلا سالانہ چوتز پا ایوارڈ ( Chutzpah Award) دیا۔Ms۔Magazine نے ارشاد کو اکیسویں صدی کی فیمینسٹ (عورتوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی ) قرار دیا۔(میک لینز (McLean's کینیڈا کے نیشنل نیوز میگزین نے اس کا انتخاب بطور دس کینیڈین کے کیا "who can make a difference" یعنی جو تبدیلی لا سکتے ہیں۔اس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ایسے مصنفین جن کا پس منظر اسلامی ہو ، جو اسلام پر کھلے بندوں تنقید کر سکتے ہوں ان کو شہرت پورے زور شور سے دی جاتی ہے تا ان کو بام عروج تک پہنچایا جا سکے تاوہ اکثریت والے مسلمانوں کے پہلے ہی زخم شدہ دلوں پر خوب نمک چھڑک سکیں۔دیگر مصنفین جیسے تسلیمہ نسرین جو بنگلہ دیش کی مسلمان اور رشدی کی گہری دوست ہے اور جو شاید اس کا سر پرست بھی تھا وہ اسلام اور اس کے پاک پیغمبر ﷺ کے خلاف جذبات کو انگیخت کرنے والی کتابیں اور مضامین لکھ کر جلا وطنی میں زندگی گزار رہی ہے۔تسلیمہ نسرین پر بھی بنگلہ دیش کے رجعت پسند مسلمانوں نے 1993ء میں فتویٰ جاری کیا تھا۔ہتک خدا اور رسول کے کورٹ کیس اس کے خلاف بنگلہ دیش کی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ایک مقدمہ تو بنگلہ دیش کی حکومت نے خود اس کے خلاف دائر کیا ہوا ہے۔اس کے علاوہ دیگر کم شہرت اور اہمیت کے مصنفین بھی سامنے آئے ہیں۔جب ان سب کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے پیچھے کوئی بدشگون محرک ہے اور اس محرک کو جاننے کے لئے کسی کا تیز وطر ار ہونا ضروری نہیں ہے۔کارٹون کا تنازعہ اب حالیہ تنازعہ ڈیمینش کارٹون کا سامنے آیا ہے جس نے اسلام اور مغرب کے مابین سلگتی آگ کو ایک بار پھر سے ہوا دی ہے۔ڈنمارک کے اخبار اجے لینڈ پوسٹن میں آنحضرت علی کے خاکے شائع ہونے پر فروری 2006ء میں پوری دنیا میں مسلمانوں کی طرف سے غیر معمولی 190