سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 158
(Roald Dahl ) جو مصنفین کی انجمن کا ممبر اور جو شاید پہلا غیر مسلمان ادیب تھا جس نے رشدی کو بے نقاب کیا۔دی ٹائمنر کی 28 فروری 1989 ء کی اشاعت میں اس کے شائع ہو نیوالے خط سے ایک بڑا اہم سوال اٹھا۔اس نے لکھا کہ : " رشدی کے معاملہ کے بارہ میں ابھی تک جو کچھ لکھا اور کہا گیا ہے، میں نے ابھی تک ایک بھی غیر مسلم کو مصنف پر تنقید کرتے نہیں دیکھا۔اس کے برعکس اسے ایک قسم کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔میرے نزدیک وہ ایک خطر ناک موقعہ پرست ہے۔یقیناً اسے مسلمانوں کے مذہب ، اس کے عوام کے بارہ میں کافی معلومات حاصل تھیں۔اسے ضرور اس امر کا احساس ہوگا کہ اس کی کتاب سے کس قسم کی گہرے اور متشددانہ جذبات مذہبی مسلمانوں میں بھڑک اٹھیں گے۔بالفاظ دیگر جو کچھ وہ کر رہا تھا اسے اس کا خوب علم تھا اس لئے اسے معافی کا طلب گار نہیں ہونا چاہئے"۔رولڈ ڈاھل اپنے خط کو ایک قابل ذکر مشاہدہ کے ساتھ ختم کرتا ہے جس کو مغربی ذرائع ابلاغ اور رشدی کے حمایتی نظر انداز کر گئے ہیں : " آج کی تہذیب یافتہ دنیا میں ہم سب پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ایک حد تک اپنی تحریروں پر خود پابندی لگائیں تا کہ آزادی تقریر کے حق کو مضبوط بنایا جا سکے"۔The Times (20 فروری 1989ء) نے ایک اور مضمون اس عنوان کے تحت شائع کیا 'Penguin under fire for ignoring expert advice'۔اس کے لکھنے والے اینڈریو مارگن (Andrew Morgan) اور پیٹر ڈیون پورٹ (Peter Davenport) تھے۔یہ مضمون اس مشورے کو زیر بحث لاتا ہے جو پینگوئین کمپنی نے انڈیا میں اپنے ایڈیٹوریل مشیر مسٹر خشونت سنگھ سے 1988ء میں موسم گرما میں کیا تھا۔مسٹر سنگھ نے کہا تھا کہ اس کو پورا یقین ہے کہ ناول کے شائع ہونے سے مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے۔ناول میں بہت سارے اہانت آمیز حوالے رسول اللہ اور قرآن کے بارہ میں ہیں اور محمد کو ایک معمولی پاکھنڈ کے طور پر پیش کیا گیا ہے"۔یہ بات مسٹر سنگھ نے دوبارہ دہرائی کیونکہ وہ اس سے پہلے ناول کے مسودہ کو یہ کہہ کر مسترد کر چکا تھا کہ یہ مہلک ترین ہے۔مسٹر سنگھ نے پینگوئین کمپنی کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر سے لندن میں ملاقات کی جو پینگوئین انڈیا کا چیئر مین بھی ہے۔" وہ کچھ حیران سا تھا اور جھلایا ہوا بھی 158