سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 157 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 157

طرح ناکام ہو گیا۔جو کچھ بھی متنازع اور دین کی مذمت کر نیوالے ناول کے دفاع میں لکھا گیا ہے اس سے قطع نظر اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رشدی اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہا تھا اور کس قسم کے جال میں وہ اپنے آپ کو پھنسا رہا تھا۔یہ بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ ادبی دنیا کے ممتاز ادیبوں نے اس کو قبل از اشاعت خطرناک نتائج سے آگاہ کر دیا تھا۔رشدی کو پہلے سے انتباہ کئی رپورٹیں اس قسم کی موجود تھیں جن سے صریح طور پر معلوم ہوتا تھا کہ رشدی نے اسے دئے جانیوالے عقلمندانہ مشوروں کو نظر انداز کر دیا تھا۔ٹام کیلسی (Tom Kelsey) اور ڈیوڈ لسٹر (David Lister ) کی تیارہ کردہ ایک رپورٹ کے مطابق The Stanic Verses کے پبلشرز نے ناول کی اشاعت سے قبل مذہبی ماہرین سے مشورہ طلب کیا۔انہیں تنبیہ کی گئی کہ "اس کی اشاعت سے ایسی دہشت گردی شروع ہوگی جس کو کوئی شخص یا ملک کنڑول نہ کر سکے گا۔وہ نو یہودی اور عیسائی ادیب جن کو اشاعت سے تین ماہ قبل پبلشرز کی طرف سے ڈرافٹ کاپی موصول ہوئی ان کا متفقہ فیصلہ تھا : " اس کتاب کو افسانہ ہر گز نہ کہا جائے کیونکہ اس میں تاریخی شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے جس سے متعدد لوگ آزردہ خاطر ہوں گے۔اس کے باوجود پبلشرز نے کتاب شائع کردی"۔(The Independent, UK۔March 06, 1989) پبلشرز کا معاملہ تو سیدھا سادھا ہے۔ان کے نزدیک ایک کتاب جتنی نزاعی ہوگی اس کی فروخت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔یہ تو کسی بھی پبلشر کا سنہرا خواب تھا کہ کوئی کتاب اس قدر نزاعی ہو اور اتنی شہرت حاصل کر لے۔لیکن یہ سپنا جلد ہی ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا کم از کم مصنف کیلئے تو ضرور۔اس کو شاید اُس سے زیادہ طاقتور قوتوں نے استعمال کیا ہو۔اور اسے شاید قربانی کا بکرا بنایا گیا ہو کچھ بھی ہو وہ اتنا بھی معصوم نہ تھا جیسا کہ اس نے بننے کی کوشش کی۔ایک تلخ آمیز مشاہدہ رشدی کا اس ناول کے لکھنے کا محرک بلاشبہ مشکوک تھا۔ممتاز برطانوی مصنف رولڈ ڈاھل 157)