سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 159 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 159

کیونکہ وہ ( رشدی کو ) بھاری پیشگی معاوضہ ادا کر چکے تھے"۔یہ پیشگی معاوضہ کی رقم ایک ملین ڈالر تھی جس کے بارہ میں سن کر ہر ایک کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس ناول کے متعلق ضرور کچھ دال میں کالا تھا جب انسان یہ سوچے کہ برطانیہ میں سب سے منافع بخش ادبی ایوارڈ David Cohen British Literature Prize' کی رقم محض چونتیس ہزار پاؤنڈ تھی۔سارے معاملہ میں ضرور گڑ بڑ تھی۔پیشگی معاوضہ میں اتنی بڑی رقم کا دیا جانا اس سے سازش اور مشتبہ لین دین کی بو آتی تھی جس کا تعلق مافیا اور اس قماش کے لوگوں سے ہوتا ہے۔اس رقم کا دیا جانا یہ بھی تجویز کرتا تھا کہ مصنف کو یہ رقم اس لئے دی جارہی تھی کیونکہ وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر موت وحیات کا سب سے بڑا جو اکھیلنے والا تھا۔ہمیں اس امر کوملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ اشاعتی کمپنی جس نے پیشگی رقم اسے دی تھی وہ یہودیوں کیلئے ذہنی میلان رکھتی تھی۔یہ ادبی حملہ صرف اسلام پر تھا عیسائیت اور یہودیت کے خلاف کچھ نہ کہا گیا تھا۔اس سازش کے پیچھے کن کا ہاتھ تھا اس کو سمجھنے کیلئے کسی کا ذہین ہونا ضروری نہیں۔رشدی ہی ایسا واحد شخص تھا جس کو آسانی سے معین قیمت پر خریدا جا سکتا تھا۔وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ مسلمانوں کو کس طریق سے سب سے زیادہ تکلیف پہنچا سکتا تھا۔جیسا کہ اخبار ادی گارڈین' کے جان ایزارڈ (John Ezard) نے لکھا: "سلمان رشدی جس کی پرورش اسلامی گھرانے میں ہوئی بالکل ٹھیک علم رکھتا تھا کہ سوئی کہاں چھوٹی جائے"۔اپنی قسمت کا مالک (15 فروری 1989ء) ابھی تک جو کچھ لکھا گیا اور جو حوالے پیش کئے گئے ان کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ رشدی ایک رضامند تخریب کا رتھا جس کو مغرب کی عیسائی اقوام نے اس لئے استعمال کیا تا وہ اسلام پر اپنے حملے جاری رکھ سکیں۔رشدی نے بے شک اس الزام کی تردید کی لیکن اس کا طور اطوار اور معذرت خواہیاں جو اخبارات میں شائع ہوئیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ خود اپنی قسمت کا مالک تھا۔نیو کالج، آکسفورڈ کے پروفیسر مائیکل ڈومیٹ (Michael Dummett) نے رشدی 159)