سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 152
یہ سب " علم فن " اور " آزادی تقریر " کے نام پر قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔یوں لگتا ہے کہ وہ مسلمان ادیب جو اسلامی طرز زندگی پر متنازع نظریات رکھتے ہیں ان کو عوام تک اپنی کتابیں فراہم کرنے کے زیادہ مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ان کو ٹیلی ویژن پر پرائم ٹائم میں نمایاں جگہہ دی جاتی ہے۔ان کی کتابوں پر مبسوط تبصرے لکھے جاتے اور ان کو کثیر الاشاعت اخبارات میں بڑے اہتمام سے شائع کیا جاتا ہے۔لیکن اسلام کی اصل تصویر پر بننے والے پروگرام اور مباحثے شاذ و نادر ہی دکھائے جاتے ہیں اور جس وقت دکھائے جاتے ہیں اس وقت اکثر لوگ محو خواب ہوتے ہیں۔ٹیلی ویژن پر ا دی سٹینک ورسزا پر ہونے والے مباحث کو کئی ایک پروگراموں کے ذریعہ دکھایا گیا۔کئی ایک مسلمان جن کو کوئی کبھی خاطر میں نہ لا تا تھا ان کو ٹیلی ویژن پر آ کر اپنے خیالات پیش کرنے کیلئے مدعو کیا گیا۔لیکن اس سارے ڈھونگ کا مقصد یہ تھا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ لا مذ ہب لوگوں کے نظریات ٹھیک تھے۔ایک پروگرام جسکا نام ہائپوٹیٹیکلز (Hypotheticals) تھا وہ آئی ٹی وی پر 30 مئی 1989ء کو نشر کیا گیا۔اس پروگرام کے ذریعہ ان کو ایسا جھانسا دیا گیا تا کہ الٹا ان کا ہی مذاق اڑایا جا سکے۔ان کو کوئی موقعہ نہ دیا گیا کہ وہ اپنے مقاصد بیان کر سکیں۔یہ پروگرام ان سے صرف وہ باتیں حرف بحرف کہلوانا چاہتا تھا جو اس کا ڈائریکٹر چاہتا تھا۔لیکن انصاف پسندی یہ تقاضا کرتی ہے کہ یہ کہا جائے کہ چند ایک پروگرام ایسے بھی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اپنے صحیح نظریات پیش کر نے کا موقعہ دیا۔جیسے اسلامک آنسرز (Islamic Answers) جو چینل فور پر 4 مئی 1989ء کو دکھایا گیا تھا۔یہ کہنا بھی جائز ہوگا کہ پریس کے بعض حلقوں نے مسلمانوں کی ہمدردانہ تصویر پیش کی جن کے جذبات اس مکروہ اور شرانگیز ناول کی اشاعت سے مجروح ہوئے تھے۔تاہم یہ کہنا ضروری ہے کہ ایسے مضامین محدود چند تھے اور مجھے بڑی محنت کے ساتھ انتقامی مضامین کے پلندوں میں سے ان کو بڑی چھان بین کر کے نکالنا پڑا۔ذرائع ابلاغ میں ہونیوالے اچھے تبصرے The Times کے امریکن نما ئندہ ، کو نر کروز او برائن Conor Cruise) 152)