سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 153
(O'Brien نے 22 فروری 1989 ء کے اخبار میں ایک متوازن مضمون سپرد قلم کیا جس کا عنوان تھا صحیح اور غلط کی ممانعت (Banning, right and wrong )۔اس مضمون میں وہ سلمان رشدی کے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے نام ایک خط کا حوالہ دیتا ہے جو اس نے ادی سٹینک ورسز پر بھارتی پابندی لگنے پر بھیجا تھا۔رشدی کا یہ خط دی نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا تھا جس میں اس نے احتجاج کیا ایہ کتاب اسلام کے بارہ میں نہیں ہے'۔کونر او برائن دلیل دیتا ہے کہ اگر چہ کتاب اسلام پر نہیں ہے لیکن اس کے کثیر حصے صاف طور پر اسلام کے متعلق ہیں بلکہ اس میں قرآن سے حوالے بھی دئے گئے ہیں۔رشدی کہتا ہے کہ دی سٹینک ورسز میں دئے گئے پیغمبر کانام محمد نہیں ہے'۔کونر او برائن اس دھو کے کو صاف دیکھ سکتا اور اس شرارت کو دودھاری کہتا ہے۔وہ مزید وضاحت کرتا ہے کہ محمد کو اس ناول میں ماہونڈ کہا گیا ہے۔اگر آپ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں ما ہونڈ کے معنی تلاش کریں تو درج ہے: " مفتری نبی محمد۔۔۔ایک جھوٹا دیوتا، ایک بت۔۔۔ایک عفریت ، ایک بھیانک مخلوق جو شیطان کیلئے بطور نام کے بھی استعمال کیا جاتا ہے"۔یہ ایسے سخت القابات ہیں جن کا بازاروں میں بلوہ کر نیوالے ہجوم پر سکون بخش اثر ہوگا۔او برائن آیت اللہ خمینی اور دوسرے مسلمانوں کے رد عمل کو بھی بخوبی سمجھتا ہے جو اپنے دین کی روایات پر پابند ہو کر عمل پیرا ہیں جس طرح ماضی میں یہودی اور عیسائی ہوا کرتے تھے۔وہ کہتا ہے کہ آیت اللہ کی رشدی کیلئے موت کی سزا ہر کسی عیسائی یا یہودی کیلئے نا قابل فہم نہیں ہونی چاہئے۔پرانے عہد نامہ میں خدا موسیٰ کو تاکید کرتا ہے : " اور ہر وہ شخص جو خدا کے نام کا استہزاء کرتا ہے، اسے لازماً مار ڈالا جائے گا، اور تمام حاضرین مجلس اس پر سنگساری کریں گے" (Leviticus24:14)۔او برائن اس آیت کے ساتھ زبر دست موازنہ کرتا ہے : "جب ہم مسلمانوں کی اس بات پر سیر زنش کرتے ہیں کہ ہتک خدا و رسول کی سزا موت ہونی چاہئے یوں لگتا ہے جیسے ہم کہ رہے ہوں تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ اپنی بیوی کو زدوکوب کرو جب کہ میں نے اپنی بیوی کو پیٹنا بند کر دیا ہے؟"۔خمینی کے فتویٰ کے جاری ہونے کے ایک سال بعد The Guardian اخبار کے 153)