سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 131
چودھواں باب ہتک خدا، ارتداد اور الحاد برطانیہ میں بریڈ فورڈ ( یارک شائر ) کے شہر میں ادی سٹینک ورسز' کی چند کا پیوں کو نذر آتش کئے جانے کے واقعہ کو برطانیہ کے بڑے بڑے اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا۔ٹیلی ویژن پر بھی یہ خبر جامع رنگ میں دکھائی گئی۔چند غصیلے مسلمانوں کے اس رد عمل کو تمام مسلمانوں کا رد عمل کہہ کر پیش کیا گیا، جس طرح اس واقعہ کو برطانوی ذرائع ابلاغ نے اچھالا اس سے اسلام اور مغرب کے درمیان تفرقات کی خلیج اور بھی بڑھ گئی۔سب سے پہلے میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلام چند ایک مسلمانوں کے اس فعل کی ہرگز چشم پوشی نہیں کرتا جنہوں نے اپنے غصہ کو رفع کرنے اور رسوائے زمانہ ناول کے مندرجات پر بیزاری کا اظہار کرنے کیلئے کتابوں کو جلایا۔اس ہنگامہ خیز واقعہ سے کسی قسم کا جسمانی تشدد وقوع پذیر نہ ہوا لیکن مغربی ذرائع ابلاغ رائی سے پہاڑ بنانے پر تلے ہوئے تھے۔تا ہم جو بات مغربی ذرائع ابلاغ نے آسانی سے فراموش کر دینے میں مصلحت جانی وہ یہ ہے کہ عیسائیوں نے خود ازمنہ وسطی سے لے کر اب تک تاریخ میں کتنی کتابیں نذر آتش کی ہیں۔چرچ کی شروع ہی سے یہ پالیسی رہی کہ مد مقابل مذاہب ( یہودیت اور اسلام) سے عیسائیوں کو محفوظ کرنے کیلئے ان پر من گھڑت جھوٹے الزامات عائد کر دئے جائیں۔۔۔۔۔۔۔ہانس کنگ (Hans Kung) جو جرمنی کی یو نیورسٹی آف تو بنگن میں پروفیسر ہے وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے : " ازمنہ وسطی میں۔۔یورپین اقوام عرب تہذیب، فلاسفی ، سائنس ، طب، اسلام کی اقتصادی اور فوجی طاقت کو بہ نظر استحسان دیکھتی تھیں۔تا ہم نشاۃ ثانیہ کے بعد ہر وہ چیز جو عرب تھی بشمول ان کی زبان کے اس کو حقیر سمجھا جانے لگا۔کیونکہ اس وقت عیسائیت کو (1529ء) ترک قوم کی طرف سے فوجی خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔جب وینس میں ، جو اس وقت ترکوں 131)