سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 132 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 132

کی طوائف کا شہر کہلاتا تھا، قرآن کی عربی زبان میں طباعت مکمل ہوئی تو پاپائے اعظم نے اس کو فوراً نذر آتش کر دینے کا فرمان جاری کر دیا۔ایڈرین ریلینڈ (Adrian Reland ) کی کتاب De Religion Mohammedica دی ریجن آف محمد۔1705ء) جو راس ( Ross) کی کتاب Pansebeia کے بعد اسلام پر سب سے زیادہ حقیقت پسند کتاب تھی ، اس کو ممنوعہ کتابوں کی فہرست رومن انڈیکس میں شامل کر دیا گیا تھا" (Hans Kung, Christianity & the World Religions, page 20) یہودی بھی عیسائیوں کے ظلم و استبداد کا نشانہ بنے کیونکہ یہودیوں کے ہتک خدا و رسول کے جواب میں ان کی کتابوں کا جلا دینا بھی اس سازش کا حصہ تھا۔چرچ کے نزدیک یہ معاملہ بہت ہی سنجیدہ تھا اور یہودیوں نے اپنی مقدس کتابوں کی بے حرمتی کے خلاف بہت آہ وفغاں کی۔اس موضوع پر پروفیسر لیزر ڈلیوی (Leonard Levy ) نے اپنی کتاب میں مزید روشنی ان الفاظ میں ڈالی ہے: " پوپ گریگوری نہم نے فرمان جاری کیا کہ طالمود کو پوری عیسائی دنیا میں آگ کی نذر کر دیا جائے کیونکہ اس میں عیسی اور مریم کے خلاف ہتک وکفر کے کلمات شامل تھے۔۔۔لوئیس نہم (Louis IX) کو طالمود نذر آتش کر دینے میں مسرت حاصل ہوتی تھی۔۔۔پیرس میں 1248ء میں ان کا ایک ڈھیر نذرآتش کیا گیا آراگان میں جہاں طالمود کو جلا یا تو نہ گیا مگر اس کو ضبط کر کے اس میں سے نامناسب حصے حذف کر دئے گئے۔کلمات کفر ادا کرنے کی سزا کے طور پر یہودیوں کو حکم تھا کہ وہ اپنی تمام کتابیں سرکار کے حوالے کر دیں حکم عدولی کی سزا موت تھی۔۔۔1550 ء کی دہائی میں اطالین شہروں میں یہودی کتابیں اور نا در ربانی مسودات کو ہزاروں کی تعداد میں جلایا گیا۔۔۔ایک اطالین کارڈینل نے 1629ء میں یہ ڈینگ ماری کہ اس نے دس ہزار یہودی کتابیں ضائع کر دینے کیلئے جمع کی تھیں۔" (Leonard Levy, Treason Against God, page 116/117) ایک اور مصنف ریورنڈ آئی بی پرانے ٹس (RevI۔B۔Pranaitis) نے بھی اسی قسم کی حکایات کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے جو یہودیوں کی فقہ میں عیسائیوں کے بارہ میں خفیہ تعلیمات کے متعلق ہے: "شہنشاہ جسٹینین (Justinian) نے 553ء میں پوری رومی سلطنت میں طالمودی کتابوں کی ترسیل پر پابندی لگادی۔تیرھویں صدی میں دو پاپائے اعظموں یعنی گریگوری نہم 132)