سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 122
لکھنے کو کہا جس میں خدا کو سمیع علیم کہا گیا تھا، تو میں لکھتا تھا سمیع حکیم۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ما ہونڈ نے ایسی تبدیلیوں کو محسوس نہ کیا، تو دیکھو میں صحیفہ لکھ رہا تھا یا یوں کہہ لو دوبارہ لکھ کر میں خدا کے الفاظ کی بے حرمتی کر کے اس کو اپنی بے ادب زبان میں قلمبند کر رہا تھا۔" (صفحہ 367) تمام کتاب میں اسی موضوع کو مدنظر رکھ کر اظہار خیال کیا گیا ہے مگر اس واقعہ کے بیان کرنے میں اس نے جو غلیظ زبان استعمال کی ہے وہ کاری ضرب کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کے ساتھ اس نے کینہ پروری کا ثبوت دیتے ہوئے نبی پاک ﷺ کی ذات ، آپکی ازواج مطہرات اور صحابہ کرام پر بہتان لگائے ہیں۔اس نے تاریخ اسلام کے تمام اصلی واقعات اصلی نام اور اصلی حالات استعمال کئے ہیں۔سارے مواد کو اس نے فکشن کے رنگ میں پیش کیا ہے۔مثال کے طور پر میں یہاں چند عبارتیں نقل کرتا ہوں: " اس کا نام، اس کا خوابیدہ نام اگر اسے صحیح تلفظ کے ساتھ ادا کیا جائے تو اس کے معنی ہیں ایسا شخص جس کے لئے تشکر کیا جائے لیکن وہ اس کا جواب یہاں نہیں دیتا ہے۔یہاں وہ نہ تو Mahomet ، نہ ہی Moe Hammered ہے۔بلکہ اس نے گلے میں وہ پٹہ ڈال لیا ہے جو فرنگی لوگ اپنی گردن کے گرد باندھتے ہیں۔پہاڑ پر چڑھنے والا ، نبی بننے کا شوقین خلوت گزیں، عہد وسطیٰ میں بچوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے والا ، شیطان کا مترادف Mahound ہے"۔(صفحہ 93) " ماہونڈ کی حالت نہایت دردناک ہے۔وہ سوال کرتا ہے : کیا یہ ممکن ہے کہ وہ فرشتے ہیں؟ لات، منات ، عزی۔۔۔کیا میں ان کو فرشتوں کی صفات والے کہہ سکتا ہوں؟ کیا یہ خدا کی بیٹیاں ہیں؟ کیا اللہ اس قدر اکثر باز ہے کہ وہ نوع انسانی کو بچانے کیلئے تین اور کو قبول نہ کرے گا"۔(صفحہ 111) " وہ (Mahound) تین دیویوں کی مورتیوں کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور آیات کی تنسیخ کا اعلان کرتا ہے جو شیطان نے اس کے کان میں پھونک دی تھیں۔یہ آیات اصل صحیفہ قرآن سے حذف کر دی گئی تھیں۔ان کی جگہ نئی آیات شامل کر دی گئی تھیں، کیا اس کیلئے تو بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہوں گے؟ ماہونڈ کہتا ہے یہ بٹوارہ قابل قبول ہوگا۔(صفحہ 124) 122)