سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 123 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 123

اس نے عائشہ کی طرف رخ کیا، کوئی معبود نہیں ہے اس نے بڑی سختی سے کہا، خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں اور محمد اس کا نبی ہے " خاتون نے جواب دیا۔(صفحہ 239) جنگ خندق کا بھی ذکر کیا گیا ہے : " سلمان نے پیغمبر کو قائل کر لیا کہ نخلستان والی آبادی کے ارد گرد خندق کھو دی جائے ایک خندق ، جس کے نیچے تیز دھار چو میں ہوں۔جب جاہلین نے ان کو غیر معقول قسم کی سرنگ کھودتے دیکھا تو ان کی بہادری اور بڑائی کے احساس نے ان کو مجبور کیا کہ وہ ایسا طرز عمل دکھا ئیں کہ گویا خندق کھودی نہیں گئی، بلکہ اپنے گھوڑوں کو پورے زور کے ساتھ دوڑاتے چلے جائیں ایک مہاجر سے امید رکھو کہ وہ آپ کا ساتھ دے گا"۔(صفحہ 365) حضرت سلمان فارسی یہاں یہ بیان کر دینا سودمند ہوگا کہ سلمان فارسی کون تھے کیونکہ اس سے یہ بات واضح ہو جائیگی کہ وہ رشدی کے زہر یلے قلم کا نشانہ کیوں بنے ؟ سلمان کی پیدائش اصفہان کے قریب گاؤں Jayy میں زرتشتی والدین کے یہاں ہوئی۔عیسائیت قبول کرنے کے بعد وہ عنفوان شباب میں ہی شام چلے گئے۔یہاں وہ ایک نہایت بزرگ بشپ کے رفیق بن گئے جس نے بستر مرگ پر سلمان کو تاکید کی کہ وہ موصل کے بشپ کے پاس جائیں جوا گر چہ ضعیف العمر تھا مگر اس کے نزدیک پارسا انسان تھا۔سلمان نے شمالی عراق کی طرف سفر کیا ، ایسا سفر جو عیسائی ولیوں کے ساتھ ان کی دوستی کا باعث بنا۔حتی کہ ان ولیوں میں سے آخری ولی نے بستر مرگ پر سلمان کو بتلایا کہ ایک نبی کی بعثت کا وقت آن پہنچا ہے۔اس نے کہا: " وہ ابراہیم کے دین کے ساتھ بھیجا جائیگا اور عرب میں مبعوث ہوگا جہاں وہ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر کے دو پہاڑوں کے درمیان واقع کھجوروں کے علاقہ میں آئیگا۔اس کے حق میں ہونے والے نشانات ظاہر و باہر ہوں گے : وہ تحفہ والے کھانے میں سے کھا ئیگا مگر صدقہ میں سے نہیں، اور اس کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر ہوگی۔" سلمان نے تہیہ کر لیا کہ وہ اس نبی کو ضرور بہ ضرور تلاش کریں گے اور کلب قبیلہ کے تاجروں کی جماعت کو پیسے دے کر کہا کہ وہ ان کو اپنے ہمراہ حجاز لے جائیں۔مگر جب وہ بحیرہ احمر کے شمال 123