سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 121
تیرھواں باب The Stanic Verses رشدی کی نظر میں رشدی نے اپنی رسوائے زمانہ کتاب میں Stanic Verses ”شیطانی آیات کا تذکرہ مسلسل کیا ہے اور اگر چہ اس نے اس موضوع کو نہایت او چھے اور ہرممکن مزاحیہ طریق سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے، مگر اس کے در پردہ ہتک آمیز رویہ اور زہر کو وہ چھپا نہیں سکا۔رشدی نے بعض مغربی مصنفین کی اس موضوع پر گھڑی ہوئی کہانیوں کو استعمال میں لا کر ان کو افسانے کا لبادہ پہنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔: "اس کے قریب پہنچ کر وہ رک گئی اور اپنی تعفن اور جہنمی آواز میں خوش الحانی سے پڑھا : کیا تم نے لات اور منات کا سنا ہے، اور تیسری عزمی کو بھی جو ( ان کے علاوہ ہے؟ وہ بڑی شان والے پرندے ہیں لیکن خالد نے اس کو یہ کہہ کر ٹو کا اعزمی وہ شیطانی آیات ہیں اور تم شیطان کی بیٹی، ایسی مخلوق جس کی عبادت نہ کی جائے ، بلکہ ٹھکرا دی جائے' پھر اس نے تلوار نکالی اور اس کو تہ تیغ کر دیا"۔(صفحہ 373) صل الله رشدی کا کتاب میں بات کرتے کرتے ماضی سے حال اور حال سے ماضی میں مسلسل آنا جانا ، اس کا مقصد صرف اور صرف قاری کو الجھانا اور شک میں ڈال دینا ہے۔وہ پخش زبان اور جدید دور کی برائیوں کو بیان کر کے اشاروں کنایوں میں کہتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نہ صرف آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ بلکہ آپ میں بھی انسانی کمزوریاں ہوں گی۔مثلاً کاتبوں کے قرآن مجید کے لکھنے کے متعلق رشدی اس مفروضہ کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بعض مواقع پر محمد علی کاتبین وحی کی کتابت کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا کرتے تھے۔سلمان فارسی کے بارہ میں وہ لکھتا ہے: " جب وہ نبی کے پاؤں میں قانون ، قانون ، قانون قلم بند کر نے کیلئے بیٹھتا تو اس نے چپکے چپکے خفیہ طور پر وحی کو بدلنا شروع کر دیا۔پہلے وہ معمولی تبدیلیاں کرتا تھا۔اگر ما ہونڈ نے آیت 121)