سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 33 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 33

باب سوم اسلام کے خلاف نفرت یہ بات واضح ہے کہ اہل مغرب صلیبی جنگوں کے ظلم و تشدد اور بے شرمی سے خوب آشنا ہیں۔بے شمار مصنفین اور مورخین فتیح واقعات بیان کر کے ان کی مذمت کر چکے ہیں اس لئے ہم نے سوچا کہ انہوں نے اس سے کوئی تو سبق سیکھا ہو گا۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔طرفہ تماشا یہ کہ باوجود یکہ وہ ان رسوا شدہ تاریخی شواہد سے داغدار ہو چکے ہیں لیکن آج پھر حکمران عیسائی اقوام اسی نوع کے وحشیانہ اور بہیمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔مثلاً 1992 ء کی خلیج کی جنگ میں ان سب نے گٹھ جوڑ کر کے ایک قوم پر ہلہ بول دیا۔چند ہفتوں میں ہی اتحادیوں نے عراق کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔فضاء میں سے ہوائی بمباری کر کے جو بھی سامنے آیا بلا تفریق ہلاک کر دیا گیا، جن میں معصوم عوام ، عورتیں اور بچے شامل تھے۔یہ سب کچھ نام نہاد انصاف کے نام پر روا رکھا گیا۔آج کے دور کے صلیبی جنگجوؤں نے اپنے وحشیانہ اقدام پر غلاف چڑھا کر جواز نکال لئے اور اپنی جارحیت کو اچھائی اور شرافت کا نام دے کر اصلیت کو چھپا لیا۔خلیج کی جنگ شروع میں چونکہ دو مسلمان ممالک کے درمیان تھی اس لئے عیسائی اقوام کو اس بات کا فکر نہ تھا کہ وہ کس کا ساتھ دیں جب تک کم از کم ان میں سے ایک قوم کا مکمل طور پر تباہ ہونا قطعی تھا۔آج بھی اسلام کے خلاف نفرت کچھ اسی نوعیت کی ہے۔بوسنیا کی جنگ میں بھی اہل مغرب نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی پر تشویش کا اظہار کیا، اگر اہل مغرب فی الواقعہ اس جنگ کو ختم کرنے کے خواہاں ہوتے تو وہ بوسنین مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشدد اور بغض و عناد کو چند ہی ہفتوں میں ختم کر سکتے تھے جس طرح انہوں نے اتحادیوں کی مجموعی طاقت کو بروئے کار لا کر خلیج کی جنگ کو ختم کیا تھا۔لیکن بوسنیا کی جنگ مزید چار سال تک جاری رہی اور صورت حال بجائے سدھرنے کے رفتہ رفتہ دگر گوں ہوتی گئی۔یہ تو اہل مغرب کی دورخی تنگ نظری کی ایک اعلیٰ درجے کی 33