سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 34
مثال ہے۔اور اس سے اقوام متحدہ ایک بار پھر غیر مؤثر اور بے کار ادارہ ثابت ہوئی۔اہل مغرب کی اسلام کے خلاف نفرت بہت قابل فہم اور بڑی آسانی سے سمجھ آسکتی ہے۔مشکل یہ ہے کہ دنیا اس کا نوٹس نہیں لینا چاہتی اور یہ دوزخ ان کے عین سامنے ہے جس کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔کسی نامعلوم وجہ سے مغرب کی عیسائی اقوام اسلام کے خون کو خونخوار چمگاڈر کی طرح چوسنا چاہتی ہیں۔انہیں اسلام کے علاوہ کسی اور دوسرے مذہب کا خون تشفی بخش نہیں لگتا ہے۔دوسرے مذاہب عالم جیسے ہندو ازم اور بدھ ازم سے وہ ہرگز خوف زدہ نہیں ہوتے کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام دور دراز علاقہ سے نہیں آیا یا اس میں غیر ملکی جادو نہیں جس کا تصور ان ہندوستانی مذاہب کے بارہ میں عوام الناس کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے۔ایک جرمن مؤرخ پروفیسر جوزف وان الیس ( Josef van Ess) نے اسلام سے نفرت کے موضوع پر اپنے موقف کا اظہار ہانس کنگ کی کتاب میں یوں کیا ہے: اسلام سے دلچسپی تو بہت پرانی ہے۔ذرائع ابلاغ سے اسلام سے متعلق جو کچھ سننے یا پڑھنے میں آتا ہے اور جو صاحب دانش لوگوں کی بھی رائے ہے وہ بہت چونکا دینے والی ہے۔چونکا دینے والی دو رنگ میں، ایک یہ کہ یہ یک طرفہ آراء اور تعصب پر مبنی ہیں اور دوسرے یہ کہ جس قسم کے آسیب زدہ لب ولہجہ کو اختیار کیا جاتا ہے اس سے بدھ مت اور ہندومت سے بمقابلہ اسلام کوئی خوف نہیں کھاتا۔خوف تو ایک طبعی چیز ہے۔اس طرح کے ماحول میں گھسے پٹے نظریات کی فراوانی ہونے لگتی ہے اور مزید جاننے یا سمجھنے یعنی جس کی خواہش عمومیات اور جلد بازی کے ساتھ اخذ کئے ہوئے نتائج میں کھو کر رہ جاتی ہے۔۔۔اسلام کے خلاف من گھڑت محاورے لاشعور کی گہرائیوں میں پڑے ہوتے ہیں اور بلا اعتراض قبول کر لئے جاتے ہیں۔اس کی مثال اخبارات کے کارٹونوں میں مل جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمارے ثقافتی ورثہ کا حصہ نہیں ہے۔اساتذہ اس موضوع کے لئے نہ بھی تیار تھے اور نہ ہی اب تک تیار ہیں " (Kung, Christianity & the world religions, pp 5-6) ہانس کنگ اسی کتاب میں اس سے ملتے جلتے وسوسے کا اظہار کرتا ہے : " تاریخ کے دھارے پر اسلام اکثر دنیائے عیسائیت کے لئے ایک خلل انداز ، دھمکی آمیز اور خوف میں مبتلا کر دینے والی حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دو ہزار 34