سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 134
ہتک خد اور سول اور آزادی تقریر ہتک خدا اور سول اور توہین آمیز کتابوں کے نذرآتش کئے جانے میں ایک نا قابل انکار تعلق ہے۔رشدی افیئر نے یقیناً ان دونوں باتوں کو بھڑکایا ہے۔اس کے نتیجہ میں ایک اور بہت اہم مسئلہ پیدا ہو گیا جو آزادی تقریر سے تعلق رکھتا ہے۔اس حصہ میں ہتک خدا و رسول سے پیدا ہونے والے اولین واقعات بمع مثالوں کے پیش کر کے ان پر تبصرہ کیا جائیگا۔ان کا تعلق ہمارے دور میں ہونیوالے واقعات سے جوڑا جائیگا۔اس مسئلہ پر صحیح اسلامی تعلیمات کیا ہیں وہ پیش کی جائینگی۔تاریخی طور پر انگریزی لفظ ' بلا شیمی (Blasphemy ) بطور لقب کے استعمال ہوتا تھا یعنی دین کے مقدس معاملات میں ایسی غلط رائے دینا جو اختلاف کرنے والے کے نزدیک قابل اعتراض ہو۔معترض صدق دل سے محسوس کرے کہ اس کے ایمان پر حملہ کیا گیا ہے در آنحالیکہ ہتک صرف اس کے ذہن میں ہی واقع ہوئی ہو نہ کہ قصور وار کے ذہن میں۔بائبل کی تعلیمات بائیل صاف اور غیر مبہم الفاظ میں اللہ کی شان میں بے ادبی کرنے کی مذمت کرتی ہے۔یہ کلمہ کفر بکنے والوں کیلئے موت کی سزا مقرر کرتی ہے۔یہود ونصاری کی تاریخ میں Leviticus 24:16 نے کلمہ کفر کی سزاموت مقرر کر کے آنیوالی نسلوں کیلئے مثال قائم کر دی : اوہ شخص جو اللہ کے نام کی ہتک کرے گا اسے موت دی جائیگی، حاضرین مجلس اس پر سنگساری کریں گے ، عارضی شہری اور مقامی شہری بھی ، جب وہ خدا کے نام کی ہتک کرے گا موت کی گھاٹ اتارا جائیگا۔ہتک خدا و رسول کے قوانین کی چرچ کی طرف سے باریک بینی سے پیروی کے نتیجہ میں یہودیوں کو صدیوں تک نشانہ ستم بنایا گیا۔تاہم کوئی اس فرمان کی زد سے باہر نہ تھا بشمول خود عیسائیوں کے۔اس کی ایک طنزیہ مثال اطالین نشاۃ ثانیہ کے فلاسفر جیور ڈانو برونو Giordano) Bruno کی ہے جو سولہویں صدی میں رہتا تھا۔اس کے مقدمہ کی تفصیل سلمان رشدی کی حالت زار کی طرح نہایت دلچسپ ہے۔134