سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 133 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 133

اور انو سینٹ چہارم نے طالمود کی کتابوں کو قابل مذمت قرار دیا کیونکہ ان میں عیسائی مذہب کے خلاف ہر قسم کی خباثت اور مذمت دین موجود تھی۔انہوں نے ان کے جلا دینے کا حکم صادر کیا کیونکہ یہ سیحی مذہب کیخلاف مکروہ باتوں کا پر چار کرتی تھیں۔" (The Talmud Unmasked, page 21) ان تاریخی حقائق کے پیش نظر کیا اب مغربی اقوام کیلئے یہ بات سمجھنا آسان ہوگئی ہے کہ مسلمانوں میں سلمان رشدی کے ناول ' دی سٹینک ورسز' میں آنحضور ﷺ کی پیش کردہ تصویر کے خلاف کیوں شدید رد عمل ہوا تھا۔کیا اب ان کو یقین آگیا ہے کہ ایک ناول اس قدر نفرت اور عداوت کو کیسے ہوا دے سکتا ہے؟ کیا مغرب کے عوام کے خدشے دور ہو گئے ہیں کہ مسلمان طبقے اپنے شہروں میں بیگانی اقدار کے مطابق نہیں رہتے اور نہ ہی یہ کہ وہ ان اقدار کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کرنے کو تیار ہیں؟ ان زیرک لوگوں کو جو تاریخی حقائق سے شناسائی رکھتے ہیں، اس دردناک واقعہ نے یورپ کو اپنے ماضی کی یاد دلا کر بے چین کر دیا ہوگا۔مزید یہ کہ عوام کو بالکل اندھیرے میں رکھا گیا اس لئے جب انہوں نے بریڈ فورڈ کے مسلمانوں کو اس ناول کو نذرآتش کرتے دیکھا تو وہ اس کتابوں کے ڈھیروں کے آلاؤ سے اس کا ناطہ نہ جوڑ سکے جو صدیوں تک عیسائی یورپ میں بھڑکتا رہا۔ہاں انہوں نے اس چیز کو اسلام کی ناقابل علاج غیر رواداری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا، ایک ایسی غلط تصویر جو صدیوں سے یہ لوگ پیش کرتے آئے ہیں۔عوام الناس خاص طور پر برطانوی بہت ہی انصاف پسند لوگ ہیں۔جب ان کے سامنے معقول رنگ میں دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو وہ غیر جانبدارانہ رنگ میں انصاف کیسا تھ فیصلہ کرتے ہیں۔لیکن اگر حقائق کو تعصب کی عینک لگا کر ، نفرت کے بھیس میں چھپا کر پیش کیا جائے جیسا کہ مغرب کے ذرائع ابلاغ کی اکثریت کی یہ عادت ہے، تو پھر یہ حیرانگی کی بات نہیں کہ عوام الناس کی رائے ان لوگوں کے مطابق ہو جاتی جو اس طاقتور ذریعہ ابلاغ کو کنٹرول کرتے ہیں۔133