سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 112 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 112

نے گزشتہ ناول اٹڈ نائٹس چلڈرن' میں کیا تھا۔لیکن اسٹینک ورسز میں اس نے اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور پوری کتاب میں وہ اسلامی قوانین کے سخت ہونیکی مسلسل شکایت کرتا ہے بمقابلہ اس مادر پدر آزاد ویسٹرن سوسائٹی کے جس کا وہ فخر یہ شہری ہے۔اس ناول میں کوئی چیز بھی اس مذہب سے متعلق تخیلاتی نہیں جس کا ذکر وہ مضحکہ خیز رنگ میں کر رہا ہے بلکہ پہلے کی طرح اسلام کے خلاف مضامین اس کی گزشتہ کتابوں کی طرح اس کتاب میں بھی موجود ہیں۔کوئی بھی مسلمان رشدی کی کتاب میں پیش کردہ مضامین کے اب تک سرسری جائزے سے ضرور آپے سے باہر ہو گیا ہوگا۔لیکن جو کچھ اس نے لکھا جیسے وہ کافی نہ تھا۔اس نے مہلک ترین زہر نبی کریم ﷺ کیلئے بچار کھا تھا۔اس نے آنحضور ﷺ کی ذات کیلئے ماہونڈ کا نام استعمال کیا جو کہ عہد وسطیٰ میں صلیبی پروپیگنڈہ کے عین مطابق تھا جس میں نبی پاک صلعم کو تاریکی کے شہزادے ما ہونڈا کے روپ میں پیش کیا گیا تھا جو عیسائیت کا سب سے بڑا دشمن تھا۔اس نے امڈ نائٹس چلڈرن' میں صاف صاف لکھا ہے کہ " پیغمبر اسلام محمد جن کا نام ماہونڈ بھی تھا"۔(صفحہ 161) میں نے اس ناول کو بڑی ہی اذیت اور دل پر پتھر رکھ کر پڑھا اور پڑھنے کے دوران دماغ کا توازن برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی۔یہ ناول بہتان اور افترا کا ایک پلندہ ہے جس میں افضل الانبیاء پاک محمد مصطفی ﷺ کے خلاف بغض سے بھری گندی زبان استعمال کی گئی ہے۔میں کسی اور کو اس کے سرسری مطالعہ کا بھی نہ کہوں گا کیونکہ اگر میں اس میں سے چند مثالیں بھی دینا چاہوں تو پوری کی پوری کتاب کا حوالہ دینا ہوگا۔اس موضوع پر بہت سارے مسلمان علماء اظہار خیال کر چکے ہیں۔صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ پوری کتاب میں خاتم النبین سرور کائنات ﷺ کے خلاف مغلظات بکی گئی ہیں۔اگر چہ آپ کے کردار پر کئے جانے والے حملے گزشتہ مستشرقین کے حملوں سے مشابہت رکھتے ہیں، مگر رشدی نے اسفل سافلین کا ثبوت آپ صلعم کے خلاف نا قابل یقین مخش زبان استعمال کر کے دیا ہے۔اس کتاب کے مصنف کو اس قسم کی واہیات کتاب لکھنے پر لٹریری ایوارڈ کا مستحق قرار دے دینا گویا مسلمانوں کی پیٹھ میں پہلے سے گھونپے ہوئے نشتر کو مزید گہرا کرنے اور اذیت دینے کیلئے گھمانے کے مترادف ہے۔112)