سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 111
سے بھرا ہوا تھا جن کے نام وہی تھے جو نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے تھے؟ یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے اور رشدی جیسا عمل نہ کر نیوالا مسلمان بھی اس امر سے واقف ہوگا کہ رسول مقبول ﷺ کی ازواج کا امہات المومنین ا ہو نیکی وجہ سے خاص عزت والا مقام تھا۔ان کے جان بوجھ کر یوں ناول میں استعمال نے لازماً مسلمانوں میں غصے کی آگ کو بھڑ کا نا تھا جو اپنے لئے اس بے عزتی کو زیادہ محسوس کرتے بجائے اس کے کہ ان کی ماؤں اور بیویوں کی بے عزتی کی جائے۔شاید رشدی نے اپنی سادگی اور حماقت میں یہ جانا کہ افسانے کے روپ میں وہ ہر بات کہنے میں آزاد ہے۔اور اس نے اس عذر کو زیادہ ہی طول دینے کی کوشش کی ہے حتی کہ اس کے حمایتی بھی اس کے اس شیطانی منصوبے پر نادم ہوئے ہوں گے۔ناول میں رشدی کی اسلام سے نفرت ہر صفحہ پر عیاں ہے۔وہ بڑی طعن آمیزی سے ہر اسلامی چیز پر پھبتی کہتا ہے چاہے وہ کتنی ہی ادنی کیوں نہ ہو۔مثلاً وہ در پردہ الزام عائد کرتا ہے کہ مسلمان کی زندگی ضرورت سے زیادہ قوانین کے زیر پابند ہے اور یوں اس کا ضمیر آزادنہیں ہے۔مومن غیر قانونی طریق سے رہتے تھے لیکن ان سالوں میں ahound۔۔۔۔۔پر قانون کا خبط سوار ہو گیا۔قوانین قوانین قوانین قوانین ہر چیز کے متعلق ، اگر ایک آدمی ہوا خارج کرتا ہے تو چاہئے کہ وہ ہوا کے رخ پر ایسا کرے، ایک قانون یہ کہ انسان اپنی پیٹھ صاف کرتے وقت کون سا ہاتھ استعمال کرے۔ایسا لگتا تھا کہ زندگی کا کوئی پہلو بھی قوانین کے بغیر اور آزاد نہ تھا۔الہام اور تلاوت میں مومنوں کو بتلایا گیا کہ وہ کس قدر کھانا تناول کریں۔کتنی گہری نیند وہ سوئیں۔اور مجامعت کے لئے کونسی پوزیشن خدا کے یہاں پسندیدہ ہے"۔(صفحات 365-364) رشدی نے اسلامی طریق نماز اور وضو کو بھی نشانہ استہزاء بنایا ہے: " وضو، ہر وقت وضو سے رہو، ٹانگیں گھٹنوں تک، بازو کہنیوں تک، اور سرگردن تک۔خشک جسم، گیلے اعضاء، اور گیلا سر، یہ لوگ کتنے پاگل نظر آتے ہیں، غسل اور نماز ادا کرتے ، اپنے گھٹنوں پر ، اپنے بازؤں، ٹانگوں اور پر ، اپنے سروں کو ہر جگہ موجود ریت کے اندر دھنستے اور اس کے بعد دوبارہ پانی اور نماز کے دور کو دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔"(صفحہ 104) یہاں رشدی نے غلیظ زبان استعمال کر کے قوانین شریعت کا مذاق اڑایا ہے جسطرح اس 111