سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 101
والدین سے کرتے ہوئے کہتا ہے: "میری کھوپڑی کے اندر آوازیں مجھ سے باتیں کر رہی تھیں۔امی، ابو، واقعی میں سوچتا ہوں میرے خیال میں رئیس الملوک نے میرے ساتھ کلام کرنا شروع کر دیا ہے۔" (صفحہ 162) تاہم نبی پاک ﷺ کے متعلق ایک حوالہ سے رشدی کے ٹھیک اور خطرناک ارادے ابھر کر سامنے آجاتے ہیں : (صفحہ 161) " محمد ( آپ پر درود اور سلام) یہاں کہتا چلوں میں کسی کو ناراض نہیں کر نا چاہتا۔" کیا یہ واضح طور پر طنز نہیں کہ رشدی بالکل یہی کرنا چاہتا تھا۔وہ ایک خطر ناک کھیل کھیلنا چاہتا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی فطرت میں ایک عفریت بن گیا جس پر اس کا کوئی کنٹرول نہ تھا۔اس نے اپنے لئے کانٹوں کا بستر اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں ہی بنالیا تھا اور جلد ہی اس کو اس پر سونا پڑنا تھا۔اس کی دھو کے بازی اور گستاخی کی بناء پر ہر کوئی اس کی قسمت کا اندازہ لگا سکتا تھا جو اس کی منتظر تھی۔: " ایک شام ، ایک رات اور ایک صبح کیلئے گونگا ہونے پر میں نے یہ جاننے کی کوشش شروع کی کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ، آخر کار ذہانت کی چادر کو میں نے اپنے اوپر گرتے دیکھا جو بیل بوٹے والی تتلی کی طرح تھی میرے کندھوں پر عظمت کا لبادہ گر رہا تھا"۔(صفحہ 161) اپنی ادبی قابلیت کی بناء پر رشدی نے سوچا تھا کہ وہ ہر قسم کے خیالات کا اظہار کرسکتا تھا اور ان کو دوسروں کے سر تھوپ کر اپنی ذات کو محفوظ رکھ سکتا تھا۔یہ ایک قسم کی قوت ، اور طاقت کا احساس تھا جو اسے پہلے بھی نہ ہوا تھا۔وہ اس میں خوب مزے لوٹ رہا تھا جیسا کہ وہ صاف صاف کہتا ہے: صبح کے ہونے تک، میں نے یہ جان لیا تھا کہ آواز میں کنٹرول کی جاسکتی ہیں، میں ایک قسم کا ریڈیو ریسیور تھا، جس کی آواز میں زیادہ یا کم کر سکتا تھا، میں خاص آوازوں کا انتخاب کر سکتا تھا، بلکہ میں ذراسی کوشش سے نئے دریافت شدہ اندرونی کان کا بٹن بند بھی کر سکتا تھا۔یہ بات حیران کن تھی کہ کتنی جلدی خوف دور ہو گیا"۔(صفحہ 162) تو سلمان رشدی نے سوچا کہ اس نے اپنے اصلی جذبات کے اظہار کیلئے نیا راستہ تلاش کر لیا تھا۔نیز فنکشن کے لبادہ میں وہ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتا تھا۔لیکن ایسا کرنے سے جو الٹا الزام اس پر لگے وہ خود کو اُن سے قبل از وقت بری الذمہ قرار دے سکتا تھا۔اس طریق سے وہ مختلف 101)