سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں

by Other Authors

Page 100 of 205

سلمان رشدی بھوتوں کے آسیب میں — Page 100

إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآن - (سورة الرحمن - 75-55:71) ترجمہ: ان میں بہت نیک خصال دوشیزائیں ہیں۔پس (اے جن وانس ) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟ محلات جیسے مکانوں میں جو اینٹ پتھر کے نہیں ٹھہرائی ہوئی حوریں ہیں۔پس (اے جن وانس ) تم دونوں اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کرو گے؟ انہیں ان ( جنتیوں ) سے پہلے جن وانس میں سے کس نے مس نہیں کیا ہوگا۔رشدی اس نفس مضمون کو نہایت بے غیرتی کے ساتھ استعمال میں لاتے ہوئے کہتا ہے : اور عورتیں ، ان کیلئے چار مردانگی طاقت والے مرد "۔اس کا مقصد یقیناً قاری کے اندر نفسانی خواہش کو ابھارنا، نیز نیک لوگوں کی پارسائی اور بزرگی کوٹھیس پہنچاتا ہے جن کو اخروی زندگی میں نیک ساتھیوں کا وعدہ دیا گیا ہے۔لیکن اس کے علاوہ سب سے زیادہ خباثت والی زبان آنحضور علی کی ذات مبارک کے خلاف استعمال کی گئی ہے ، بلکہ رشدی اتنا دیدہ دلیر ہے کہ وہ اپنا مقابلہ آپ صلعم سے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس پر بھی وحی کا نزول ہو چکا ہے جس سے وہ اپنی کتابیں صل الله ضبط تحریر میں لاتا ہے۔کتاب کے ایک باب کو پورے طور پر پڑھنا لازمی ہے تا اس کے قلم میں موجود عناد اور زہر کا اندازہ لگایا جا سکے۔اس باب میں اس نے وحی کے نظریہ کا حد سے زیادہ مذاق اڑایا ہے۔میں یہاں صرف چند سطور کا حوالہ دوں گا تا کہ قاری کو اس کی کمینگی کا اندازہ ہو سکے : " طور سینا پر حضرت موسیٰ نے احکامات سنے، حرا کے پہاڑ پر نبی محمد ( جو Mohammed, the Last But One اور Mahound کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں) نے جبرئیل سے کلام کیا لیکن موسیٰ کی طرح اور حضرت محمد کی طرح، میں نے بھی پہاڑ پر آوازیں سنیں۔جبرئیل نے محمد سے کہا: پڑھو، اس کے بعد کتاب شروع ہوئی جس کا عربی میں نام القرآن ہے۔یہ حرا کے پہاڑ پر مکہ شریف کے باہر ہوا۔دومنزلہ پہاڑی پر جو بر بیچ کینڈی پولز کے سامنے ہے، مجھے بھی آوازوں نے ہدایت دی کہ میں پڑھوں"۔(صفحات 162-161) جس طرح نبی پاک ﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ کے پاس پہلی وحی کے نزول کے بعد اپنی کیفیت بیان کی تھی اسی طرح رشدی استہزاء کے ساتھ جھوٹے الہامات کا ذکر اپنے 100