حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 30 of 41

حضرت سیدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ — Page 30

30 ے میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہے ” میرا ارادہ اور میری نیست تو یہ ہے کہ میری اولاد کا ہر لمحہ اور ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کیلئے وقف ہو۔اور میں نے تو اپنی طرف سے کر دیا۔اب انجام تک پہنچنا ان کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا فرمائے۔“ ابا جان اکثر امی جان کے سامنے اظہار فرمایا کرتے تھے کہ میرے بیٹے وہ نہیں جو میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ابا جان نے ہم تینوں بھائیوں کیلئے بڑے الحاج سے خدا تعالیٰ کے حضور وہ منظوم دعائیں کی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے تینوں بیٹوں کے متعلق مانتی ہیں۔ان کی زبان سے یہ مصرع:۔یہ تین جو پسر ہیں تیرے غلام در ہیں ابھی پورا دا انہیں ہوتا تھا کہ ان کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے تھے۔خدا تعالی ہمیں توفیق دے۔کہ ہم ان کی خواہشوں کو پورا کر سکیں۔آمین (11) آپ کی بیٹی سیدہ بشری بیگم صاحبہ بتایا کرتی تھیں کہ اُن کی امی جان بے حد صفائی پسند اور سلیقہ مند تھیں۔اگر کوئی ملنے والا اچانک بھی ان کے گھر چلا جاتا تو اُس کو یوں لگتا جیسے ابھی ابھی صفائی ہوئی ہو۔ہر چیز اپنی جگہ پر موجود ہوتی۔پاکستان بننے کے بعد ربوہ کے کچے گھروں میں آپ کے گھر میں فرش پر سفید چادریں چھی ہوتیں جو ہر وقت سفید اور اجلی نظر آتیں۔اسی کمرے میں چار پائی کے نیچے اگر آپ چادر اُٹھا کر دیکھیں تو بہت سلیقے سے رکھی ہوئی کتابیں