سیر روحانی — Page 739
۷۳۹ قرآنی لنگر کی کوئی چیز چرائی نہیں جاسکتی اس نقطۂ نگاہ سے جب میں نے قرآنی لنگر کا بادشاہی لنگروں سے مقابلہ کیا تو ۱۴ میں نے دیکھا کہ قرآنی لنگر کا کھانا نہ تو لوگ ناجائز استعمال کر سکتے تھے اور نہ لانگری اُس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکتا تھا۔جبکہ بادشاہی لنگروں کی یہ کیفیت تھی کہ وہ جاری تو غرباء کے لئے کئے جاتے تھے مگر کھانا آسودہ حال لوگ آ کے کھا جاتے تھے اور کچھ لانگری کھا جاتا تھا اور غریب بھو کے مرتے تھے۔چنانچہ مجھے نظر آیا کہ قرآنی لنگر کی حفاظت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ایک خاص ارشاد فرمایا ہے جس میں کھلے طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ قرآنی لنگر میں کوئی چوری نہیں ہو سکتی۔اور اگر کوئی چوری کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً پکڑا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ۔یعنی وہ آنکھ کے اشارے کو بھی سمجھتا ہے اور دلوں کے مخفی خیالات کو بھی سمجھتا ہے۔پس جو لوگ قرآنی لنگر سے چوری کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے بلکہ پکڑے جاتے ہیں۔عام طور پر قاعدہ ہے کہ چور یہ دیکھ کر کہ کوئی دیکھتا نہیں ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ہیں کہ چیز اُٹھا لو، کوئی خطرے کی بات نہیں لیکن قرآن فرماتا ہے کہ ہمارے لنگر میں اگر کوئی کسی کو آنکھ مارے تو اُسے وہیں پکڑ لیتے ہیں اور اُسے وہ چیز اُٹھانے نہیں دیتے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دل کی مخفی باتوں کو بھی جانتا ہے۔یعنی اگر کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال مخفی رکھ کر آئے کہ میں قرآنی لنگر سے کوئی چیز چراؤ نگا تو وہ بھی پکڑا جائیگا کیونکہ اللہ تعالیٰ اُس کے دل کی حالت کو جانتا ہے اور مالک اپنے خزانہ کو کبھی چور کے ہاتھ میں نہیں جانے دیتا۔خدا تعالیٰ نے اپنے لنگر خانہ کو جن لوگوں کے لئے مخصوص کیا ہے وہی اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں دوسرا قریب بھی نہیں جاسکتا۔پس جیسے بادشا ہی لنگر کو لانگری کھا جاتے ہیں ویسا قرآنی لنگر میں نہیں ہوسکتا۔جب کوئی قرآنی لنگر میں چوری کرنے لگے تو فوراً خدا تعالیٰ کے فرشتے اُس کو روکنے کیلئے آگے بڑھتے ہیں اور اُسے پکڑ لیتے ہیں۔قرآن کریم میں اسی مضمون کے متعلق ایک اور آیت بھی ہے جس میں عجیب پیرا یہ میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلَا الْأَعْلَى وَيُقْدَ فُوْنَ مِنْ كُلِ جَانِبِ دُحُورًا وَّلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ لا إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ ها یعنی قرآنی لنگر جوڑ و حانی باتوں پر مشتمل ہے اُس کے متعلق بعض دفعہ دشمنانِ اسلام