سیر روحانی — Page 740
۷۴۰ چاہتے ہیں کہ اُس کی کچھ باتیں پہلے سے سُن لیں اور پھر اُن کو بگاڑ کر مسلمانوں کو شرمندہ کریں مگر فرماتا ہے لَا يَسْمَعُونَ إِلَى الْمَلا الا على ایسے شیطان جو دشمنانِ اسلام ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بات اُن کو معلوم ہو جائے چاہے نجوم کے ذریعہ سے یا قرآن کریم پر غور کر کے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے بلکہ جب بھی وہ ایسا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيُقْدَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبِ فوراً خدائی فرشتے آ جاتے ہیں اور چاروں طرف سے انکو مار پڑتی ہے۔دُحُورًا اور پھر مار بھی ایسی پڑتی ہے کہ وہ مار کھا کر وہاں کھڑے نہیں رہ سکتے بلکہ دُور چلے جاتے ہیں گویا مار اُن کو دُور لے جانے کے لئے پڑتی ہے اور اسلئے پڑتی ہے کہ انہیں بھگا کر زمین کے کناروں تک لے جایا جائے کیونکہ اگر وہ پاس ہوں تو پھر بھی امکان ہوتا ہے کہ شاید کچھ بھنبھناہٹ سُن لیں اور یہ پھر لوگوں کو جا کر دھوکا دیں۔وَلَهُمْ عَذَابٌ وَّاصِبٌ اور پھر اُن کو پرے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ طرح طرح کے عذاب اُن پر نازل کئے جاتے ہیں جو ہمیشہ اُن کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔یعنی اتنے خطرناک عذاب نازل ہوتے ہیں کہ دشمن سے دشمن بھی اور اُن کا گہرا دوست بھی مان لیتا ہے کہ ان پر خدا کا عذاب نازل ہو رہا ہے۔اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص بندر کی طرح جھپٹا مار کر کوئی حقیر سی غذا اُٹھا کر لے جائے۔پس اگر بندر کی طرح وہ ایک آدھ لقمہ اُٹھا کر لے جائے تو یہ ہوسکتا ہے مگر خدا تعالیٰ اُس کا بھی ازالہ کر دیتا ہے اور اُس سے اُسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا کیونکہ ایک چھوٹا سا لقمہ جس سے پیٹ بھی نہ بھرتا ہو اُس سے کسی قوم نے کیا فائدہ اُٹھانا ہے۔پس اگر وہ قرآنی تعلیم میں سے کوئی بات اُڑا بھی لیں تو وہ بہت ہی حقیر ہو گی ایسی حقیر کہ قرآن کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گی اور بہر حال قرآن ہی اس پر غالب آئے گا۔جسمانی اور رُوحانی لنگر کا مقابلہ قرآنی لنگر کے ہمیشہ جاری رہنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے میں نے یہ بھی دیکھا کہ جسمانی لنگر تو کب کے خاموش ہو چکے ہیں لیکن قرآنی لنگر کے ہمیشہ زندہ رہنے کی پیشگوئی قرآن کریم میں مذکور ہے۔چنانچہ اُس نے فرمایا اِنَّا اَعْطَيُنكَ الْكَوْثَرَهِ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُه إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُه اے محمد رسول اللہ ! ہم تجھے ایک ایسے روحانی بیٹے کی بشارت دیتے ہیں جو بڑا ہی سخی ہوگا۔پس چاہئے کہ تو اُس کے پیدا ہونے کی خوشی میں اپنے رب کے فضل کی وجہ سے اُس آنے والے