سیر روحانی — Page 738
۷۳۸ ادنی چیز ہے اصل چیز روحانی کھانا ہی ہے یعنی دین کی باتیں سننا اور اُس پر عمل پیرا ہونا۔میں اس کی مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔۱۹۰۸ء میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں ٹھہرے ہوئے تھے لاہور کے بڑے بڑے احمدیوں نے وہاں کے با اثر لوگوں کی ایک دعوت کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی شامل ہوئے اور آپ نے اُن معززین کے سامنے ایک تقریر فرمائی لیکن اتفاقاً تقریر کچھ لمبی ہوگئی۔خلیفہ رجب دین صاحب مرحوم جو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کے خُسر تھے اور دعوتوں کا انتظام کرنے میں بڑی مشق رکھتے تھے انہوں نے پیچھے سے آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کہنا شروع کیا کہ حضور بڑی دیر ہوگئی ہے کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے اور بڑے بڑے معززین آئے ہوئے ہیں۔اس پر میاں فضل حسین صاحب مرحوم کہ وہ بھی مدعوئین میں سے تھے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کر کے کہا کہ حضور ! دنیا وی کھانے تو ہم روز ہی کھاتے ہیں ہم تو یہاں آپ کے ہاتھ سے رُوحانی کھانا کھانے آئے ہیں سو آپ تقریر جاری رکھیں اور ہمیں اس سے محروم نہ کریں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر جاری رکھی اور تمام غیر احمدی احباب بیٹھے سنتے رہے۔میاں فضل حسین صاحب بڑے عقلمند اور سمجھدار آدمی تھے مسلمانوں کے لیڈر تھے اور ابھی اُن کی جوانی کا وقت تھا جس میں بُھوک زیادہ لگتی ہے مگر مجھے یاد ہے وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بڑے جوش سے کہا کہ آپ تقریر جاری رکھیں یہ روحانی کھانا ہمیں کب نصیب ہوتا ہے۔جسمانی کھانا تو ہم اپنے گھروں میں کھا ہی لیتے ہیں ہم جو آپ کے پاس آئے تھے تو روحانی کھانا کھانے آئے تھے اس سے معلوم ہوا کہ دین کی باتیں نظمندوں کے نزدیک رُوحانی کھانا ہوتی ہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ساتھ دل کو ایمانی تقویت حاصل ہوتی ہے۔حضرت مسیح ناصری بھی فرماتے ہیں کہ :- انسان صرف روٹی سے نہیں بلکہ خدا کے کلام سے جیتا ہے۔‘۱۳ پس یہ بات کہ رُوحانی غذاء ہی اصل غذا ہوتی ہے اور جسمانی غذاء اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اس کی حضرت مسیح کے کلام سے بھی تصدیق ہوگئی اور میاں فضل حسین صاحب کے واقعہ سے بھی تصدیق ہو گئی۔میاں فضل حسین ایک دُنیوی لیڈر تھے اور حضرت مسیح دینی لیڈر تھے دونوں نے بتا دیا کہ رُوحانی کھا نا ہی اصل کھانا ہوتا ہے۔