سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 900

سیر روحانی — Page 563

۵۶۳ خانہ کعبہ میں داخل ہو گیا وہ معاف ، جس نے اپنے ہتھیار پھینک دیئے وہ معاف ، جس نے اپنے گھر کے دروازے بند کر لئے وہ معاف تو بلال کے دل میں خیال آتا ہو گا کہ یہ تو اپنے سارے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں اور اچھا کر رہے ہیں لیکن میرا بدلہ تو رہ گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آج صرف ایک شخص ہے جس کو میرے معاف کرنے سے تکلیف پہنچ سکتی ہے اور وہ بلال ہے کہ جن کو میں معاف کر رہا ہوں وہ اُس کے بھائی نہیں۔جو اُس کو دکھ دیا گیا ہے وہ اور کسی کو نہیں دیا گیا۔آپ نے فرمایا میں اس کا بدلہ لونگا اور اس طرح لونگا کہ میری نبوت کی بھی شان باقی رہے اور بلال کا دل بھی خوش ہو جائے۔آپ نے فرمایا بلال کا جھنڈا کھڑا کرو اور اُن مکہ کے سرداروں کو جو جوتیاں لے کر اُس کے سینہ پر نا چا کرتے تھے، جو اُس کے پاؤں میں رسی ڈال کر گھسیٹا کرتے تھے ، جو اُسے تپتی ریتوں پر لٹایا کرتے تھے کہدو کہ اگر اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جان بچانی ہے تو بلال کے جھنڈے کے نیچے آجاؤ۔میں سمجھتا ہوں جب سے دُنیا پیدا ہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے پر تیار ہوا ہے اور اُس کو طاقت ملی ہے اس قسم کا عظیم الشان بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔جب بلال کا جھنڈا خانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑا گیا ہو گا ، جب عرب کے وہ رؤساء جو اُسکو پیروں سے مسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہ جھوٹا ہے جب وہ دوڑ دوڑ کر اور اپنے بیوی بچوں کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر اور لالا کے بلال کے جھنڈے کے نیچے لاتے ہونگے کہ ہماری جان بچ جائے تو اُس وقت بلال کا دل اور اُس کی جان کس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور ہو رہی ہوگی۔وہ کہتا ہو گا میں نے تو خبر نہیں ان کفار سے بدلہ لینا تھا یا نہیں یا لے سکتا تھا کہ نہیں اب وہ بدلہ لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی جوتیاں میرے سینہ پر پڑتی تھیں اُس کے سر کو میری جوتی پر مجھکا دیا گیا ہے۔یہ وہ بدلہ تھا جو یوسف کے حضرت یوسف کے بدلہ سے زیادہ شاندار بدلہ بدلہ سے بھی زیادہ شاندار تھا اس لئے کہ یوسف نے اپنے باپ کی خاطر اپنے بھائیوں کو معاف کیا تھا۔جس کی خاطر کیا وہ اُس کا باپ تھا اور جن کو کیا وہ اُس کے بھائی تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چوں اور بھائیوں کو ایک غلام کی جوتیوں کے طفیل معاف کیا۔بھلا یوسف کا بدلہ اس کے مقابلہ