سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 900

سیر روحانی — Page 562

۵۶۲ مارا جانے والا ہے وہ اُس کے بھائی بند ہیں اور اُس نے خود بھی کہہ دیا تھا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! کیا اپنے بھائیوں کو ماریں گے۔وہ ظلموں کو بھول چکا تھا اور جانتا تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔عمر بھی کہتے تو یہی تھے کہ يَا رَسُولَ اللهِ! اِن کافروں کو ماریئے مگر پھر بھی جب آپ اُن کو معاف کرنے پر آئے تو وہ اپنے دل میں یہی کہتے ہونگے کہ اچھا ہوا ہمارے بھائی بخشے گئے ، عثمان اور علی بھی کہتے ہونگے کہ ہمارے بھائی بخشے گئے انہوں نے ہمارے ساتھ سختیاں کر لیں تو کیا ہوا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کو معاف کرتے وقت یہی سمجھتے ہو نگے کہ اُن میں میرے چا بھی تھے بھائی بھی تھے ، ان میں میرے داماد ، عزیز اورشتہ دار بھی تھے اگر میں نے ان کو معاف کر دیا تو اچھا ہی ہوا میرے اپنے رشتہ دار بچ گئے۔صرف ایک شخص تھا جس کی مکہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی ، جس کی مکہ میں کوئی طاقت نہ تھی ، جس کا مکہ میں کوئی ساتھی نہ تھا اور اُس کی بیکسی کی حالت میں اُس پر وہ ظلم کیا جاتا جو نہ ابو بکر" پر ہوا، نہ علی پر ہوا ، نہ عثمان پر ہوا، نہ عمرہ پر ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی نہیں ہوا۔جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر بلال نگا لٹا دیا جاتا تھا۔تم دیکھو ! ننگے پاؤں بھی مئی اور جون میں نہیں چل سکتے۔اُس کو ننگا کر کے تپتی ریت پر لٹا دیا جا تا تھا، پھر کیلوں والے جوتے پہن کر نو جوان اُس کے سینے پر ناچتے تھے اور کہتے تھے کہو خدا کے سوا اور معبود ہیں، کہو محمد رسول اللہ جھوٹا ہے اور بلال آگے سے اپنی حبشی زبان میں جب وہ بہت مارتے تھے کہتے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله۔وه شخص آگے سے یہی جواب دیتا تھا کہ تم مجھ پر کتنا بھی ظلم کرومیں نے جب دیکھ لیا ہے کہ خدا ایک ہے تو دو کس طرح کہہ دوں۔اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللہ خدا کے سچے رسول ہیں تو میں انہیں جھوٹا رکس طرح کہہ دوں۔اس پر وہ اور مارنا شروع کر دیتے تھے۔مہینوں گرمیوں کے موسم میں اُس کے ساتھ یہی حال ہوتا تھا۔اسی طرح سردیوں میں وہ یہ کرتے تھے کہ اُن کے پیروں میں رسی ڈال کر انہیں مکہ کی پتھروں والی گلیوں میں گھسیٹتے تھے۔چمڑا اُن کا زخمی ہو جاتا تھا۔وہ گھسیٹتے تھے اور کہتے تھے کہو جھوٹا ہے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہو خدا کے سوا اور معبود ہیں۔تو وہ کہتے اَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ إِلَّا الله۔اب جب کہ اسلامی لشکر دس ہزار کی تعداد میں داخل ہونے کیلئے آیا۔بلال کے دل میں خیال آیا ہو گا کہ آج اُن بوٹوں کا بدلہ لیا جائے گا۔آج اُن ماروں کا معاوضہ مجھے ملے گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ معاف ، جو