سیر روحانی — Page 408
۴۰۸ وزراء اور امراء کے سامنے اعلان کیا جاتا تھا کہ ہم فلاں شخص کو گورنر مقرر کرتے ہیں یا کمانڈر انچیف مقرر کرتے ہیں یا جرنیل مقرر کرتے ہیں یا فلاں بڑے عہدہ پر مقرر کرتے ہیں۔یا اگر کوئی خادمِ قوم یا خادم ملک کوئی بڑی بھاری خدمت بجالا تا تو اس کو بلایا جا تا اور ان سب وزراء اور امراء کے سامنے اس کا اعزاز واکرام کیا جاتا اور کہا جاتا کہ اس کو یہ خلعت دی جاتی ہے یا اس کی عزت افزائی میں اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔یا اہم ملکی مسائل پیش ہوتے اور بادشاہ ضروری سمجھتا کہ وزراء سے مشورہ لینا چاہئے تو اس مجلس میں جو لوگ مقررہ اوقات پر جمع ہوتے تھے اُن کے سامنے ان امور کو پیش کیا جاتا اور درباری اپنی اپنی رائے اور مشورہ دیتے یا جس جس سے پوچھا جاتا وہ رائے دیتا اور اس کے بعد بادشاہ کی طرف سے ایک فیصلہ صادر ہو جاتا۔گویا’ دیوان خاص کے قیام کی چاراہم اغراض ہو ا کرتی تھیں۔اول بادشاہ کا اپنے وزراء کو اپنے قُرب میں جگہ دینا اور ان کا اعزاز کرنا یا مختلف مناصب پر اُن کا تقرر کرنا یا انہیں برطرف کرنا۔دوم بادشاہ کا ان سے خاص امور کے بارہ میں مشورہ لینا اور خاص امور کے بارہ میں مشورہ دینا جن سے وہ اپنے فرائض کو عمدگی سے ادا کر سکیں۔سوم اپنی مشکلات میں ان سے مدد لینا اور اُن کی مشکلات میں اُن کو مدد دینے کے وعدے کرنا۔چہارم ان کے اچھے کاموں پر انعام واکرام دینا اور بُرے کاموں پر سرزنش کرنا۔یہ وہ چار اغراض ہیں جن کے ماتحت ”دیوان خاص‘ قائم کئے جاتے ہیں۔ڈ نیوی بادشاہوں میں حقیقی محبت کا فقدان مگر میں نے دیکھا کہ بادشاہ جب اپنے درباریوں کو کوئی اعزاز دیتے تھے تو ان کا اعزاز محض قانونی ہوتا تھا۔چنانچہ پہلی بات تو یہی ہے کہ بادشاہ اپنی محبت کا اور اپنے تعلقات کا اور اپنے اخلاص کا تو اظہار کرتا تھا لیکن بادشاہ کو ان لوگوں سے حقیقی محبت نہیں ہوتی تھی اس کی اصل محبت اپنے بیوی بچوں سے ہوتی تھی۔یہ کبھی بھی نہیں ہوتا تھا کہ کسی شخص نے بڑی قربانی کی ہو اور اس نے اپنا تخت اُس کے سپرد کر دیا ہو یا اپنے اختیارات جو نیابت کے ہیں اُس کے سپرد کر دیئے ہوں۔اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ میں اپنی اولاد کی طاقت کو مضبوط کروں اور اُن کے لئے راستہ صاف کروں گویا یہ خدمت کرنے والے لوگ ایک قسم کے اجیر ہوتے تھے۔