سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 900

سیر روحانی — Page 407

۴۰۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْم الرَّحْمَنِ الرَّ۔نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۶) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۱ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ) عالم روحانی کا دیوانِ خاص تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - میں نے گزشتہ سال اسلام کے دیوانِ عام کے متعلق تقریر کی تھی اور بتایا تھا کہ دتی کی سیر میں ہم نے دیوانِ عام دیکھے جو آج اُجڑے ہوئے نظر آتے تھے۔جہاں انگریزوں کے چپڑاسی تو بڑی شان سے پھرتے تھے اور مغلوں کی نسلیں چھپتی پھرتی اور نظریں بچاتی پھر تی تھیں اور میں نے بیان کیا تھا کہ قرآن کریم میں ایک دیوان عام کا ذکر آتا ہے جو کبھی غیر آباد نہیں ہوتا ، جو کبھی دشمن کے قبضہ میں نہیں جاتا اور جس کو دیکھ کر مؤمنوں کے دلوں میں کبھی بھی حسرت پیدا نہیں ہوتی۔آج میں اس مضمون کے تسلسل میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام نے دیوان عام ہی نہیں بلکہ ایک دیوان خاص بھی پیش کیا ہے اور اسلام کے دیوان خاص کے مقابلہ میں ان بادشاہوں کے بنائے ہوئے دیوان خاص اتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے جتنی ایک زندہ ہاتھی کے مقابلہ میں اُن مٹی کے بنے ہوئے ہاتھیوں کی حیثیت ہوتی ہے جنہیں کھلونوں کے طور پر خانہ بدوش عورتیں بیچتی پھرتی ہیں۔دیوان خاص کی اغراض دیوان خاص کیا چیز تھی؟ دیوان خاص شاہی قلعوں میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی عمارت یا وسیع ہال ہو اکرتا تھا جو گویا خاص ملاقات کا کمرہ ہوتا تھا اس میں بادشاہ بیٹھتے تھے ، شہزادے بیٹھتے تھے اور وہ وزراء، امراء جن سے امور مملکت کے متعلق مشورے لئے جاتے تھے بیٹھتے تھے عام لوگوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔اسی طرح بادشاہ اگر کسی کو گورنر مقرر کرتے یا کمانڈر انچیف مقرر کرتے یا اور کسی بڑے عہدہ پر مقرر کرتے تو ان کو وہاں بلوایا جاتا تھا اور بادشاہ کی طرف سے