سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 900

سیر روحانی — Page 382

۳۸۲ تمہارا خدا تمام قسم کے گناہوں کو چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے لیکر بڑے سے بڑے گناہ تک خواہ وہ اخلاقی ہوں، یا مذہبی ہوں یا سیاسی ہوں سب کو معاف کر سکتا ہے پس تمہارے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔یہ کتنا عظیم الشان اعلان ہے جو اسلام نے دنیا کے سامنے کیا ہے۔کیا تو بہ سے گناہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ عیسائی کہتے ہیں کہ اسلام نے گناہ بڑھا دیا ہے کیونکہ اسلام اس تعلیم کا حامل ہے کہ تو بہ سے انسان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔حالانکہ عیسائیت خود کہتی ہے کہ خدا محبت ہے اور عیسائیت خود کہتی ہے کہ محبت سے دل صاف ہوتے ہیں۔جب محبت اور پیار سے دل صاف ہوتا ہے تو تو بہ سے گناہ کس طرح بڑھ سکتا ہے؟ احادیث میں آتا ہے قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم پیش ہوگا اُس سے کچھ سوالات کئے جائیں گے جن کا وہ جواب نہیں دے سکے گا مگر آخر اُس کے دل کی کسی مخفی نیکی کی وجہ سے خدا تعالیٰ اسے معاف کر دیگا اور اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ دیکھو! میرے اس بندے نے فلاں گناہ کیا تھا اُس کے بدلہ میں اسے یہ انعام ملے۔اس سے فلاں قصور سرزد ہوا تھا، اس کے بدلہ میں اسے یہ انعام دیا جائے۔مگر اللہ تعالیٰ اس کے بڑے بڑے گناہوں کا ذکر نہیں کرے گا صرف چھوٹے چھوٹے گناہوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرے گا۔جب اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا کہ دیکھو! اس نے فلاں موقع پر پتھر مارا تھا اس کے بدلہ میں اسے یہ انعام دو۔اس نے فلاں گالی دی تھی اس کے بدلہ میں یہ انعام دو۔اور اللہ تعالیٰ اس کے بعد خاموش ہو جائیگا تو وہ شخص ادب کے ساتھ کہے گا کہ حضور میری ایک عرض ہے میرے سارے گناہ ابھی آپ نے بیان نہیں کئے صرف چھوٹے چھوٹے گناہوں کا آپ نے ذکر فرمایا ہے بڑے بڑے گناہ تو ابھی رہتے ہیں۔۲۶ غور کرو ہما را خدا کتنی محبت کرنے والا ہے اور اس کی درگاہ کتنی پیاری ہے وہ تو دل کی صفائی چاہتا ہے اُسے مارنے اور سزا دینے سے کوئی دلچسپی نہیں۔تم اپنے دل کو صاف کر لو تو تمہارے تمام گناہ اللہ تعالیٰ معاف کر دیگا اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریگا کہ وہ گناہ کتنے ہیبت ناک تھے۔مصیبت زدوں کی امداد کے اعلانات پھر کئی مصیبت زدہ ہوتے ہیں ان کے لئے بھی دربار عام میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم تمہیں اِس اِس رنگ میں مدد دیں گے مثلاً گزشتہ دنوں سیلاب آیا تو گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا