سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 900

سیر روحانی — Page 381

۳۸۱ تلوار کے وار سے نہیں بلکہ دلیل کے زور سے کفر کو مٹائیں گے اور کفر اس لئے شکست کھائے گا کہ صداقت روشن ہو جائے گی اور جب صداقت روشن ہو جائے تو کفر اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا جیسے دنیا میں جب سورج چڑھتا ہے تو ڈنڈے مار مار کر ظلمت کو دُور نہیں کیا جاتا بلکہ سورج کی دُعا میں ظلمت کو آپ ہی آپ دور کر دیتی ہیں۔قیدیوں کی آزادی کے اعلانات (۷) پھر دُنیوی گورنمنٹوں کی طرف سے بعض دفعہ اعلانات کئے جاتے ہیں کہ بادشاہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اس خوشی میں اتنے قیدی رہا کئے جاتے ہیں یا فلاں شہزادہ کی شادی ہوئی ہے اس خوشی میں اتنے مجرموں کو رہا کیا جاتا ہے یا فلاں جشنِ مسرت منایا جا رہا ہے ، اس خوشی میں اتنے قیدی آزاد کئے جاتے ہیں۔میں نے سوچا کہ کیا ہمارے دربار میں بھی کوئی قیدی آزاد کئے جاتے ہیں یا نہیں؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ دُنیوی گورنمنوں کی طرف سے تو صرف بعض قیدی چھوڑے جاتے ہیں لیکن اِس دربار عام میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا گورنر جنرل مقرر کرتے ہیں اور اسے اختیار دیتے ہیں کہ وہ ہماری طرف سے تمام گنہگاروں اور قیدیوں کی آزادی کا اعلان کر دے وہ فرماتا ہے قُلْ يَعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ وَاَنِيَبُوا إِلى رَبِّكُمْ وَ أَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ ۲۵ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے تم کو اس دنیا کا گورنر جنرل مقرر فرمایا ہے تم جاؤ اور ہماری طرف سے یہ اعلان کر دو کہ اے میرے بندو! الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى انفُسِهِم جنہوں نے گنا ہوں کو کمال تک پہنچا دیا یعنی کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے چھوڑ ا ہو لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ الله تمہارا بادشاہ حقیقی جس نے مجھے گورنر جنرل مقرر کر کے بھیجا ہے اُس کی رحمت بہت وسیع ہے پس تمہارے لئے اُس کی رحمت سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً گورنمنٹیں تو یہ اعلان کرتی ہیں کہ دو مہینے یا چھ مہینے یا سال تک کی جن لوگوں کو سزا دی گئی ہے اُن کی قید معاف کی جاتی ہے یا وہ مُجرم جو اخلاقی ہیں اُن کو معاف کیا جاتا ہے یا بعض پولٹیکل مجرموں کو معاف کیا جاتا ہے مگر ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ